مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے ٗ برطانوی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:07:31 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:07:31 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:47:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:47:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:27:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:27:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:25:10 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:00:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے ٗ برطانوی میڈیا

ایک بار پھر کشیدگی کی لہر کے بعد بی جے پی کی حمایت یافتہ مفتی سعید کی حکومت پر دباو بڑھ رہا ہے ٗرپورٹ

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔سات نومبر کو جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سخت ترین سکیورٹی حصار میں حکمران پی ڈی پی اور اتحادی گروپوں کے کارکنوں سے خطاب کیا تو چند گھنٹے بعد ہی سرینگر کے نواح میں زینہ کوٹ کے قریب نیم فوجی اہلکاروں کی کاروائی میں 22 سالہ طالب علم گوہر نذیر ڈار مارا گیا۔

بدھ کو گوہر کی اجتماعی فاتح خوانی کے موقعے پر حکام نے کرفیو نافذ کیا ہے پولیس نے اس ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا اور حکومت نے عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا تاہم پچھلے چار روز سے کشمیر میں حالات تشیوشناک حد تک کشیدہ ہیں۔ پولیس کے مطابق اس عرصہ میں کم از کم 200 مقامات پر نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور ہندمخالف مظاہرے کیے۔ حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ زینہ کوٹ میں جمع ہوکر گوہر نذیر کی اجتماعی فاتح خوانی میں شرکت کریں۔

حکومت نے فاتح خوانی کے اجتماع کو ناکام کرنے کیلئے سرینگر سمیت دوسرے قصبوں میں کرفیو جیسی سکیورٹی پابندیاں نافذ کردیں۔سخت ترین سکیورٹی پابندیوں کے باوجود گوہر نذیر کے گھر میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ اس موقع پر خواتین توماتم کناں تھیں تاہم مردوں کی بات چیت چیت سے لگا کہ بھارت کے خلاف برہمی اور تحقیقات کے وعدوں پر عدم اعتماد باقی سب باتوں پر غالب ہیں۔

گوہر نذیر کے ہم جماعت دوست قاضی اطہر نے بتایا کہ یہ لوگ کیا تحقیقات کریں گے۔ 25 سال میں ایسے سینکڑوں واقعات ہوئے۔ کل کی بات ہے 2008 اور 2010 میں 200 نوجوانوں کو قتل کیا گیا پھر تحقیقات کا اعلان ہوا۔ کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ یہ اعلان غصہ ٹھنڈا کرنے کی ایک چال ہے جو حکومت ہر بار چلتی ہے۔گوہر کے والد نذیر ڈار اس قدر غمزدہ تھے کہ انھوں نے بات کرنے سے معذرت چاہی تاہم ان کے چچا حبیب اﷲ ڈار نے اشک بار آنکھوں سے بتایا: ’ایک تو ہمارے لخت جگر کو قتل کیا۔

اور اب ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ چار روز سے یہاں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 21:45:54 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان