سینیٹ میں مالیاتی اختیارات حاصل کرنے کیلئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی، رضاربانی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:49:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:47:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:44:25 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:44:25 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:44:05 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:43:31 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:36:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:36:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:35:26 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:34:00 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:32:41
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینیٹ میں مالیاتی اختیارات حاصل کرنے کیلئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی، رضاربانی

ووٹر کا نام بیلٹ پیپر پر درج کیا جاسکتا ہے اور ووٹ فروخت ہونے کی شکایت پر بیلٹ پیپر کھول کر دیکھا جاسکتا ہے , سینٹ کمیٹی میں ارکان کے انتخاب کے طریق کارپر مختلف تجاویز، آئندہ اجلاس میں ماہرین کو بلاکر آراء لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ سینیٹ کے ارکان کے انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک ورکنگ پیپر تیار کیا گیا ہے تاکہ ارکان کو مختلف ممالک میں موجود طریقہ کار سے آگاہی حاصل ہو سکے، ووٹر کا نام بیلٹ پیپر پر درج کیا جاسکتا ہے اور ووٹ فروخت ہونے کی شکایت پر بیلٹ پیپر کھول کر دیکھا جاسکتا ہے،قومی اسمبلی کے بھی بہت سے ارکان براہ راست منتخب نہیں ہوتے پھر اگر انہیں مالیاتی اختیارات حاصل ہیں تو ہمیں کیوں نہیں اس کیلئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی جبکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے ماہرین سے تجاویز لی جائیں گی۔

بدھ کو یہاں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ اے این پی نے اجلاس شروع ہونے سے پہلے اپنی سفارشات تحریری طور پر دے دی ہیں دیگر ارکان بھی تحریری طورپر دے دیں تو آسانی ہو گی ۔رضاربانی نے کہا کہ سینیٹ کے ارکان کے انتخاب کا موجودہ طریقہ کار دو جماعتوں کے سوا سب کے اتفاق رائے سے متعار ف کروایا گیا تھا صوبائی اسمبلیوں میں موجود تمام مکاتب فکر کی اس ایوان میں نمائندگی ہوتی ہے موجودہ طریقہ کار اس لئے وضع کیا گیا تھا تاکہ تمام سیاسی گروہوں اور سوچ کے حامل افراد اور جماعتوں کی نمائندگی ہو سکے۔

پھر ووٹوں کی خریداری کا معاملہ بھی سامنے آیا اور سول سوسائٹی، میڈیا اور عام شہری موجودہ طریقہ کار سے نالاں ہونے لگے ڈائریکٹ ووٹ کے ذریعے سینیٹرز کو منتخب کرنے کی تجویز بھی آئی میرے نقطہ نظر سے یہ فعال طریقہ کار نہیں ہوگا کیونکہ اس سے کسی بھی صوبے کی تمام سیاسی سوچ کو نمائندگی نہیں مل سکے گی میرے نقطہ نظر سے اس طرح قومی اسمبلی کا جو رزلٹ ہو گا اس کی سینیٹ میں عکاسی ہوگی چھوٹی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی وفاق میں نہیں ہو سکے گی ۔

سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ آرٹیکل 226 میں ترمیم کر کے اگر سینیٹ کے ارکان کے انتخاب کیلئے اوپن ووٹ کر دیا جائے تو ہر کلاس کے لوگ ممبر منتخب ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق سفارتکار آصف ایزدی نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے اس کو بلا کر آراء حاصل کی جاسکتی ہے سابق جج سپریم کورٹ جسٹس اجمل میاں نے بھی انتخابات کے حوالے سے کافی کام کیا ہے جس پر چیئرمین نے کہا کہ اگر کمیٹی راضی ہو تو ان دونوں یا کسی بھی بلایا جاسکتا ہے قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے جس بیماری کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی جڑیں بہت گہری ہیں لوکل باڈیز کے انتخابات میں بھی بڑے بڑے پوسٹر بینزنظر آرہے ہیں بنیادی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ روپے پیسے کا عمل دخل انتخابات سے ختم کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متناسب نمائندگی سے یہ کام کیا جاسکتا ہے براہ راست انتخابات کی تجویز پر عمل ممکن نہیں ۔ڈاکٹر اعجاز شفیع کو بھی ماہر کے طورپر بلایا جاسکتا ہے ۔سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ اس ایوان میں ایسے ارکان بھی ہیں جو ایک روپیہ خرچ کیے بغیر منتخب ہوئے ہیں ۔انہوں نے تجویز دی کہ سینیٹ کو فنانس بل کی منظوری کا اختیار ہونا چاہیے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نے بھی چار الیکشن لڑے ہیں کل ملا کر 20 ہزار روپے خرچ کیے ہیں ۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ الیکشن کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی نے ایک کمیٹی بنائی ہے ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا کہ طاقت اور پیسے کے زور پر لوگ منتخب نہ ہوں ۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ چند ارکان کو خریدنا خریداروں کے لئے آسان ہوتا ہے جبکہ ہزاروں عوام کو نہیں خریدا جاسکتا ہمیں سینیٹ کے اختیارات کے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 21:43:31 :وقت اشاعت