وزیر خزانہ کی کویت میں اسلامی فنانس کے فروغ بارے عالمی کانفرنس میں شرکت
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:47:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:47:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:45:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:27:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:27:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:25:10 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:00:32 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:59:30 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:55:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

وزیر خزانہ کی کویت میں اسلامی فنانس کے فروغ بارے عالمی کانفرنس میں شرکت

اکثر مسلم ممالک کو شرعی مالیاتی خدمات اور مصنوعات تک رسائی نہ ہونے کے باعث بینکاری خدمات میسر نہیں

کویت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلامک فنانس کے فروغ کیلئے ہنر مند اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کی دستیابی کو ضروری قرار دیتے ہوئے شرعی مالیاتی خدمات اور مصنوعات کے فروغ کی ضرورت پر زدور دیا ہے ۔ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بدھ کو کویت میں منعقدہ اعلیٰ سطح کی عالمی کانفرنس برائے اسلامی فنانس میں شرکت کی اور کویت کے نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ انس الصالح ،سعودی عرب کی مالیاتی ایجنسی کے گورنر ڈاکٹر فہد عبد اﷲ المبارک ترکی کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ایردم باسکی ، اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر ڈاکٹر احمد محمد علی المدنی اور عالمی مالیتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈائریکٹر مشرق وسطیٰ وسطی ایشیاء معسود احمد کے ساتھ پینل مباحثے میں حصہ لیا ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ متعدد ترقی پذیر اور مسلم اکثریت والے ممالک کو بینکاری کی بہت کم سہولیات میسر ہیں جس میں رضا کارانہ اور غیر رضاکارانہ وجوہات شامل ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو شرعی اصولوں پر قائم مالیاتی خدمات اور مصنوعات تک رسائی حاصل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مالیاتی خدمات کا فروغ اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا میں اسلامک مائیکرو فنانس کیلئے بھر پور مواقع موجود ہیں گلوبل اسلامک رپورٹ 2012 کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم علاقوں میں اسلامی مائیکرو فنانس کیلئے 40 فیصد تک کلائنٹس موجود ہیں ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کر کے مالیاتی شمولیت کے فروغ کیلئے کام کر رہاہے ہم نے اس حوالے سے کئی اہم سنگ میل عبور کئے ہیں ۔

اس سلسلہ میں وزیر خزانہ نے مائیکرو فنانس بینکوں کیلئے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل آن لائن کریڈٹ انفارمیشن بیورو کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ اس میں توسیع سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان برطانوی جریدے اکانومسٹ کی جانب سے شائع شدہ رپورٹ کے مطابق مالیاتی شمولیت کے ساز گار ماحول کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامک فنانس کے فروغ کیلئے ہنر مند اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کی دستیابی نہایت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ اسلامک فنانس نظام رکھنے والے ممالک کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک یہ نظام متعارف کرانے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں ہم اپنی طرف سے ان سے تعاون اور اپنے تجربے کا تبادلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔بعد ازاں وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے کویتی وزیر خزانہ اور ڈائریکٹر آئی ایم ایف کرسٹائن لیگارڈ اور دیگر اہم شخصیات نے ظہرانے میں شرکت کی۔

11/11/2015 - 21:27:04 :وقت اشاعت