دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لئے آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:07:24 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:07:21 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:07:21 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:00:15 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:00:14 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:45 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لئے آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور

مقدمات کے گواہان، ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالتی ارکان کے تحفظ کے لئے عدالتی عہدیداروں کے ناموں کی اشاعت نہیں کی جائے گی،ترمیمی بل کا متن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ(ترمیمی) بل 2015ء کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر بنانے کے لئے 2015ء کے مخصوص قانون کے نفاذ سے قبل کے زیرحراست افراد کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار تصور کیا جائے گاجبکہ مقدمات کے گواہان، ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالتی ارکان کے تحفظ کے لئے بھی مزید اقدامات کئے گئے ہیں اور عدالتی عہدیداروں کے ناموں کی اشاعت نہیں کی جائے گی۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلا س سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں پارلیمانی سیکرٹری چوہدری جعفر اقبال نے تحریک پیش کی کہ پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2015ء سینٹ کی جانب سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے اور بعدازاں اس قانون کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔ کثرت رائے سے منظور ہونے والے پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2015ء کے تحت دہشت گردی میں ملوث کوئی بھی گرفتار زیر حراست اور تحویل میں رکھا گیا شخص جو پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2015ء سے قبل گرفتار کیا گیا ہے وہ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد اسی ایکٹ کی دفعات کی رو سے گرفتار یا زیر حراست متصور ہوگا۔

مزید شرط یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف کسی ایسے کام کی نسبت جو ذیلی شق(سوم) یا ذیلی شق (چہارم) کے تحت نیک نیتی سے کیا گیا یا کئے جانے کا ارادہ کوئی مقدمہ، استغاثہ یا دیگر قانونی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ اس ایکٹ میں نئی دفعہ شامل کی گئی ہے جس کے مطابق گواہان‘ صدر عدالت‘ عدالت کے اراکین‘ دفاع کرنے والے افسران‘ پیروکاران‘ سرکارٖ (پراسیکیوٹرز) اور عدالت کی کارروائیوں سے متعلقہ اشخاص کا تحفظ کے لئے طلب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 20:02:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان