سینیٹ قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے ارکان کا وزراء کی عدم شرکت پر واک آؤٹ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:02:59 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:00:15 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 20:00:14 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:45 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینیٹ قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے ارکان کا وزراء کی عدم شرکت پر واک آؤٹ

اجلاس ایجنڈا مکمل کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دیا گیا،چیئرمین باہر نکلے تو وزیر آگئے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) سینیٹ قائمہ کمیٹی پٹرولیم و قدرتی وسائل کے اجلاس میں ارکان نے وزراء کی عدم شرکت پر واک آؤٹ کر دیا اور اجلاس ایجنڈا مکمل کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دیا گیاتاہم چیئرمین اجلاس ختم کرکے باہر نکلے تو اسی وقت وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی آگئے ۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر اسرار اﷲ خان زہری کی صدارت میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں سینیٹرز نثار محمد ، تاج آفریدی ، باز محمد خان ، محمد یوسف بادینی ، سردار فتح محمد محمد حسنی ، سردار اعظم خان موسیٰ خیل کے علاوہ سیکرٹری وزارت ارشد مرزا اور اعلیٰ حکام موجود تھے ۔ ذیلی کمیٹی پیٹرولیم کے کنوینئر سینیٹر نثار محمد کی طرف سے یو ایف جی کی شرح اور گیس چوری کے حوالے سے رپورٹ اجلاس میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ گیس کمپنیاں موثر اقدامات کے ذریعے گیس چوری کو روکنے کیلئے ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس سے یو ایف جی کی شرح کو نیچے لا یا جا سکے اور عوام پر دباؤ کی بجائے خسارہ گیس کمپنیاں برداشت کریں۔

کمیٹی اجلاس شروع ہوا تو ممبران کمیٹی نے پچھلی کمیٹی کی بین الاقوامی پٹرولیم کمپنیوں کی حفاظت کے حوالے سے وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی ہدایت پر وزارت داخلہ اور وزارت پٹرولیم سے بریفنگ کے لئے کہا۔ سینیٹر محمد یوسف بادینی نے احتجاجاً سوال اٹھایا کہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت کے دو وزراء میں سے ایک وزیر بھی موجود نہیں ورکنگ پیپر اجلاس کے دوران فراہم کیا گیا ہے وزیر کی عدم شرکت پر اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کریں گے جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ وزیر اجلاس میں شرکت کیلئے آرہے ہیں جس پر سینیٹر اعظم خان موسی خیل نے بھی واک آؤٹ کی حمایت کی ۔

سینیٹر سردار فتح محمد محمد حسنی نے کہا کہ جس صوبے میں مائننگ اور دوسرے قدرتی وسائل نکالنے یا تلاش کرنے کیلئے درخواست دی جاتی ہے اسی صوبے کی حکومت وزارت داخلہ کو این او سی کے لئے بھی خط لکھتی ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صوبہ اگر کمپنی یا کاروباری گروپ کو حفاظت فراہم نہ کر سکے تو وزارت داخلہ کیا اقدامات اٹھاتی ہے جس پروزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری طارق خان نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ وزارت داخلہ کمپنیوں کی حفاظت کی ذمہ دار نہیں ملک میں سیکورٹی کی سخت صورتحال

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:55:45 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان