قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزراء اور سیکرٹریوں کی عدم موجودگی پراپوزیشن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:55:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:51:05 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:40:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:40:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:28:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:25:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزراء اور سیکرٹریوں کی عدم موجودگی پراپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج ،اجلاس کی کارروائی آدھا گھنٹے تک تعطل کا شکار رہی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزراء کی ایوان اور سیکرٹریوں کی گیلریوں میں عدم موجودگی پر قائدحزب اختلاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی آدھ گھنٹے تک تعطل کا شکار رہی، خورشید شاہ نے وزراء کے غیر سنجیدہ رویے پر حکومت کو شدید نکتہ چینی کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم خود ایوان میں نہیں آئے تو وزراء کیوں آئیں، ایک وزیر کے ساتھ ایوان کی کارروائی نہیں چلائی جا سکتی ، کور کمانڈر کانفرنس نے حکومت کو گورننس بہتر بنانے کی ہدایت کی مگر آرمی چیف کی ہدایت کے باوجود وزیراعظم اور وزراء گورننس بہتر بنانے کیلئے تیار نہیں، شیخ رشید اور محمود خان اچکزئی نے بھی وزراء کی عدم موجودگی پر احتجاج کیا، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگلے اجلاس میں پہلا شخص ہوں گا جو کورم کی نشاندہی کروں گا، نواز شریف اور راحیل شریف یعنی دونوں شریف ایک پیج پر رہے تو غیر مشروط حمایت کروں گا، محمود اچکزئی نے وزراء کی عدم حاضری پر ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت پندرہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہواتو سپیکر نے وقفہ سوالات کا آغاز کرایا تاہم اس موقع پر صرف وزیر دفاعی پیداوار اور دو پارلیمانی سیکرٹریوں کے علاوہ کوئی وزیر ایوان میں موجود نہ تھا جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود حکومت نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا، وزراء کو عوام سے ووٹ لینے کا وقت تو ہوتا ہے، ایوان میں آنے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں، جب وزیراعظم نے ہی ایوان میں آنا چھوڑ دیا تو پھر وزراء کیوں آئیں گے، ہمارے دور میں نہ کورم کی نشاندہی ہوتی تھی نہ ہی کورم ٹوٹتاتھا، ہمارے وزیراعظم ایوان میں آتے تھے، اس لئے مجھ سمیت سب وزراء کو بھی آنا پڑتا تھا ، اس وقت اسمبلی میں ایک بھی وزیر موجود نہیں، وزراء بادشاہ لوگ ہیں جب آ جائیں تو اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی جائے، وزراء کے ساتھ ارکان بھی غائب ہیں لیکن کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرتا، حال تو یہ ہے کہ ہماری تقاریر کانوٹس لینے کیلئے گیلریوں میں متعلقہ سیکرٹریز بھی موجود نہیں ہیں، وزراء کے غیر سنجیدہ رویے اور حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بیورو کرسی بھی ایوان کو اہمیت نہیں دے رہے۔

شیخ رشید نے کہاکہ یہ ایوان اپوزیشن چلا رہی ہے، حکومت کی غیر سنجیدگی نامناسب ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی ہدایات کے باوجودوزیراعظم اور وزراء گورننس بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کر رہے۔ اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے وزراء کی حاضری یقینی بنا دی اور ایوان کا وقار بلند کرایا، قومی اسمبلی میں بھی سپیکر وزراء کو حاضری کا پابند بنائیں، آئندہ اجلاس میں اگر کورم پورا نہ ہوا تو پہلا آدمی ہوں گا جو کورم کی نشاندہی کروں گا، ہم ارکان اور وزراء کو عیاشی نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سول بالادستی چاہتے ہیں، اگر دونوں شریف ایک پیج

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:40:56 :وقت اشاعت