قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے کور کمانڈرز کانفرنس میں حکومت کو گڈ گورننس بہتر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:53:03 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:51:05 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:40:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:40:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:28:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:25:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:25:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے کور کمانڈرز کانفرنس میں حکومت کو گڈ گورننس بہتر بنانے کی ہدایت کو لمحہ فکریہ قراردیدیا

یہ معمول کا بیان تھا،جبکہ حکومتی ارکان کا موقف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں حکومت کو گڈ گورننس بہتر بنانے کی ہدایت کو حکومت کی ناکامی اور لمحہ فکریہ جبکہ حکومتی ارکان نے اسے معمول کا بیان قرار دیا ہے ، ارکان نے مطالبہ کیا کہ سندھ اور پنجاب میں گنے کی امدادی قیمت اعلان کرانے کیلئے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کردار ادا کرے، ایوان کی کمیٹی بنا کر گزشتہ سال مل مالکان اور حکومت کی ملی بھگت سے گنے کی کم امدادی قیمت مقرر کرانے کیلئے مارکیٹ میں چینی سستی کرانے کی تحقیقات کرائی جائے۔

بدھ کو ایوان میں نکتہ اعتراض پرپی ٹی آئی کے شفقت محمود، نفیسہ شاہ، غلام سرورخان،محمود خان اچکزئی، سید نوید قمر، یوسف تالپور، آسیہ ناز تنولی، نثار جٹ، شازیہ ثوبیہ ، علی محمد خان، شیر اکبر خان، چوہدری جعفر اقبال اور نعیمہ کشور نے اہم قومی نوعیت کے ایشوز اور اپنے حلقے کے مسائل پر ایوان کی توجہ مبذول کرائی۔شفقت محمود نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس نے گورننس بہتر بنانے بارے اعلامیے میں ذکر کیاگیا، گیارہ مہینے میں حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے کچھ ہے، اعلامیے حکومت کیلئے لمحہ فکریہ اور ناکامی کا ثبوت ہے، ایوان میں وزیر موجود نہیں، فرنٹ رو خالی پڑی ہے حکومت نیشنل ایکشن پلان پر ایوان کو مکمل بریفنگ دے۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی آرڈیننس پیش کرنے کی ضرورت نہیں، حکومت قانون سازی کرے۔ شیریں مزاری نے بھی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن کے دوران پیش نہیں ہونا چاہیے۔ غلام سرور نے کہا کہ صدارتی خطاب پر بحث نہ ہونا افسوسناک ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں کنٹریکٹ ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی، تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔

سید نوید قمر نے کہا کہ 11 ماہ سے صدارتی خطاب پر بحث نہیں ہو سکی، اب ضروری ہے کہ اب اسے واپس لے لیا جائے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ تحریک نمٹا دی گئی ہے۔ یوسف تالپور نے کہا کہ زراعت کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے، گنے کی امدادی قیمت نہیں ملی، معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، کورٹ میں ٹائم نہیں چلا، گنے کی فروخت کے وقت

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:40:56 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان