محکمہ ماہی پروری مچھلیوں کی معدوم ہوتی نسلوں کی افزائش کے لئے انقلابی اقدامات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:40:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:37:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:28:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:25:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:25:04 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:23:37 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:23:37 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:22:08 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:22:01 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:22:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

محکمہ ماہی پروری مچھلیوں کی معدوم ہوتی نسلوں کی افزائش کے لئے انقلابی اقدامات کررہا ہے ‘ڈی جی فشریز

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) ڈائریکٹر جنرل فشریز ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادیوں ، فیکٹریوں سے کثیر مقدار میں آلودہ پانی کے اخراج اورزرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی جراثیم کش ادویات کے باعث ہونے والی آبی آلودگی ، آبی حیات پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے ،دریاؤں و قدرتی آبی گذرگاہوں پر بیراجوں اور ان کے کناروں پر بندوں کی تعمیر سے مچھلی کی قدرتی افزائش گاہیں تقریبا معدوم ہوگئی ہیں جس سے ان کی قدرتی طور پر ہونے والی افزائش میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے ۔

انہوں نے یہ بات دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پرمنعقدہ بچہ مچھلی چھوڑنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر محکمہ کے افسران ، ذرائع ابلاغ کے نمائندے ، فش فارمرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ڈاکٹر محمد ایوب نے دریائے راوی ہیڈ بلو کی میں 10 ہزر سے زائد بچہ مچھلی چھوڑ کر اس مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ تقریب سرکاری پیداواری مراکز پر مصنوعی نسل کشی سے حاصل شدہ بچہ مچھلی کی قدرتی پانیوں میں سٹاکنگ پروگرام کے تسلسل کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ کی ماہی پروری کے فروغ کی پالیسیوں کے نتیجے میں سال 2014-15 میں مچھلی کی سالانہ پیداوار 92000 میٹرک ٹن اور جاری کردہ لائسنسوں کی تعداد 36426 جبکہ آمدن 212.580 ملین روپے ہو گئی ہے جس پر حکومت پنجاب نے محکمہ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کے ترقیاتی فنڈز کو 380 ملین سے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:25:04 :وقت اشاعت