روپے کا زوال،چالیس ارب کے نئے ٹیکس عوام اور کاروباری برادری کی کمر توڑ دینگے،اگر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:19:29 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:18:19 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:18:19 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:18:19 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:16:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:15:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:15:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:15:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

روپے کا زوال،چالیس ارب کے نئے ٹیکس عوام اور کاروباری برادری کی کمر توڑ دینگے،اگر برامدات میں کمی نہ ہوتی تو حکومت کبھی منی بجٹ لگانے پر مجبور نہیں ہوتی،ایف بی آر کو غیرحقیقت پسندانہ ٹارگٹ دینے کا سلسلہ بند کیا جائے

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صد ر زاہد حسین کابیان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے فرسٹ وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گرتی برآمدات ، روپے کی قدر میں چھ فیصد کمی اورچالیس ارب روپے کے نئے ٹیکس عوام اورکاروباری برادری کی کمر توڑ دینگے۔40 ارب کا منی بجٹ آئی ایم ایف کی ایما پر نافذ کیا جا رہا ہے کیونکہ برآمدات میں سال رواں کے پہلے چار ماہ میں سوا راب ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سارا نزلہ ایف بی آر پر گرایا جا رہا ہے جسے غیر حقیقت پسندانہ ٹارگٹ دے کر 640 ارب کے سہ ماہی ہدف سے چالیس ارب روپے کم جمع کر نے پر رگیدا جا رہا ہے ۔

بدھ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ محاصل کی کمی میں در آمدات میں 12.5 فیصد کمی کا عنصر بھی شامل ہے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایکسپورٹ مینیجرز سیاست کے بجائے اپنا کام کر رہے ہوتے تو برآمدات میں ریکارڈ کمی نہ ہوتی نہ روپے کی قدر گرانا پڑتی جس سے ملک و قوم کو ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان ہو گا اور حکومت کو نئے ٹیکس نہیں لگانا پڑتے۔

روپے کی قدر کم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:15:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان