انسانی حقوق کمیشن کی رکنیت اب ایشیاء پیسفک ریجن کو دی جا رہی ہے ،مسلمان ممالک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:15:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:13:44 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:12:40 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:12:40 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:12:40 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:09:10 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:07:37 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:07:37 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 19:07:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 21/02/2017 - 21:37:30 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 16:36:59 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 17:11:01 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 21:58:11 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 13:34:38 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 03:11:04 اسلام آباد کی مزید خبریں

انسانی حقوق کمیشن کی رکنیت اب ایشیاء پیسفک ریجن کو دی جا رہی ہے ،مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بناناہوں گے، اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم ہمارا آئین دیتا ہے، مشاہد حسین

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) چین پاکستان اقتصادی راہداری بارے پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کی ممبر شپ اب ایشیاء پیسفک ریجن کو دی جا رہی ہے ،مسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔ اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم ہمارا آئین دیتا ہے، انسانی حقوق کی وزارت بنانی چاہیے ۔

سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ یہ رپورٹ جو پالیسی کے حوالے سے پیش کی گئی ہے 2 سال پرانی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 40 میں مسلم دنیا سے تعلقات اور بیرونی دنیا کے ساتھ معاملات بہتر انداز سے حل کرنا ہو گا۔ موجودہ حالات میں عالمی امن بالعموم اور بالخصوص پاکستان کے امن کو برقرار رکھنے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔ اب بھی ایسی تنظیمیں موجود ہیں جن پر پابندی ہے مگر وہ اپنا کام کر رہی ہیں۔

ملک میں ایسے لوگ اب بھی ہیں جن کو بعض لوگوں کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہے۔ مذہب کو غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ آرٹیکل 27 کے تحت ملازمتوں میں کوٹہ کے حوالے سے پالیسی بنائی جاتی تھی مگر نہیں بنائے گئے۔ بدھ کو وفاق کے معاملات‘ پالیسی اصولوں کی تعمیل اور عملدرآمد پر سالانہ رپورٹ برائے سال 2012.13 پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹرلیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ آج ہمیں سوچنا ہو گا کہ آج ہم کھڑے ہیں کیونکہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات‘ خطے کے حالات کی وجہ سے ہمیں 2013-14ء کی انسانی حقوق کی رپورٹ 2014-15 بھی مرتب کرنی چاہیے ۔

آرمڈ فورسز نے تمام حالات میں ملک کو سنبھالا ہے لہذا سکولوں میں بھی اس طرح کی ٹریننگ کا انعقاد کیا جائے کہ ہنگامی حالات میں ہمیں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سینیٹر مظفر حسین شاہ نے تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پالیسی اصولوں کی تعمیل اور عملدرآمد آئین کے رہنمااصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ اختیارت کی نچلی سطح پر منتقلی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں اور گزشتہ 10 سالوں میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اختیارات منتقل نہ ہو سکے اور اب بھی بعض جگہوں میں اختیارات منتقل نہیں کئے گئے۔

پاکستان کے بعض علاقوں میں اقلیتوں سے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بیرونی دنیا کے ساتھ روابط اور تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ۔ سینیٹرمیر حاصل بزنجو نے تحریک پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس ملک میں سیاسی طور پر بلدیاتی انتخابات کو غیر جماعتی کیا گیا تو اختیارات

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 19:12:40 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان