موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، ہم ملینیئم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:27:14 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:27:14 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:26:23 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:12:51 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:12:51 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:11:25 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:11:25 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 18:09:38 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 17:45:31 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 17:32:56 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 17:32:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، ہم ملینیئم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکے ، اس وقت پاکستان گلوبل وارمنگ کابہت کم حصہ دار ہے ، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں‘ درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے پاکستان موثر اقدامات کرے گا‘ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کی اس اہم موضوع پر بحث کے دوران عدم موجودگی باعث تشویش ہے، چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کوخصوصی کمیٹی میں تبدیل کردیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کی زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ہم ملینیئم ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکے‘ جو وزیر کہتا ہے کہ ہم نے حاصل کئے ہیں اسے اس ایوان کو حقیقت بتانی چاہئے‘ اس وقت پاکستان گلوبل وارمنگ کابہت کم حصہ دار ہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں‘ درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے پاکستان موثر اقدامات کرے گا ۔

وہ بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیر رحمان کی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحریک التواء کا جواب دے رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ہمیشہ ایسی جگہوں پر گھسیٹا گیا جن سے نہ تو ہماری عوام کا تعلق تھا اور نہ ہی حکومت کا ‘ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہوا ہے‘ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کا اس اہم موضوع پر بحث کے دوران موجود نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کو سپیشل کمیٹی میں تبدیل کردیا۔سینیٹر شیری رحمان نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیرس میں کوپ 21 کانفرنس ہورہی ہے اور اس کانفرنس میں جو ممالک ماحولیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ کاربن ٹیکس ادا کرتے ہیں پاکستان نے اپنی موسمیاتی تبدیلی پر کوئی پالیسی نہیں ببائی اور ایک موقع ضائع کردیا ہمارا ملک دنیا کے تین سب سے زیادہ آلودہ ملکوں میں شامل ہے کیونکہ موسمیاتیت بدیلی کا سب سے بڑا نشانہ ہیں ماحولیاتی دباؤ کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوگا اور موسمیاتی تبدیلی کا کوئی وزیر نہیں ہے۔

وزیراعظم اگر جارہے ہیں تو پیپلز پارٹی کی بنائی ہوئی پالیسی لے جائیں کیونکہ حکومت نے تو پالیسی بنانی ہی نہیں ہم ین بہت سے مواقع ضائع کئے اب اس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا امریکن کانگریس نے اسے قومی رسک قرار دیا ہے موسمیاتی تبدیلی سے غربت‘ دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوگا اگر پالیسی حکومت کی جانب سے بنائی گئی ہے تو اسے ایوان میں آنا چاہئے سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان کو ملینیئم ترقی کے اہداف میں پاکستان کو کامیابی نہیں ملی پائیدار ترقی کے اہداف میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو بھی لانا چاہئے کیونکہ پاکستان میں زلزلے کی وجہ سے تباہی ہوتی ہے دنیا میں غربت اور تباہی ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے جنگوں پہ تعاون کرنا ہے سینیٹر

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 18:11:25 :وقت اشاعت