قومی اسمبلی ؛آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:52:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:52:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:52:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:51:50 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:49:29 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:48:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:48:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:48:33 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:23:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی ؛آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے ایوان کے اندر اپوزیشن نے شدید مخالفت کی اور بل کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا تاہم ڈپٹی سپیکر نے آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو یکمشت ایوان میں پیش کیا اور بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ بل پارلیمانی سیکرٹری دفاع چودھری جعفر اقبال نے وزیر دفاع کی طرف سے بل ایوان میں پیش کیا ۔

اپوزیشن نے شدید شور مچایا کہ پارلیمانی روایات کو بلڈوز کر کے ترامیمی بل منظور کرنا غیر قانونی اقدامات ہے حکومت نے کہا کہ بل منظور ہونے سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مزید کامیابیاں ملیں گی اور فوج کے ہاتھ مزید مضبوط ہوں گے ۔ ایم این اے زائد حامد نے ایوان میں بل کی افادیت اور شق در شق پڑھ کر سنانے کے بعد کہا کہ یہ بل دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ہے اپوزیشن نے ترامیم بل کی آڑ میں عام لوگوں کی گرفتاریاں کا خدشہ ظاہر کیا تاہم حکومت نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ۔

بل کی مخالفت پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ پی ٹی آئی نے بھی کی ایم کیو ایم بل کی منظوری ژکے وقت ایوان میں موجود ہی نہیں تھی ۔حکومت نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد اور نتائج بارے آگاہ کرے ۔نوید قمر نے کہا کہ آرمی ای کٹ میں ترامیمی بل سینٹ منظور کر چکی ہے یہ ایکٹ کا نفاذ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں تک محدود کر دیا جائے تو بہتر ہے اگر ملک کے تمام حصوں میں نفاذ کیا گیا تو بنیادی حقوق کا مسئلہ بن جا ئے گا یہ ایک تلوار ہے جو ہم پر لٹکتی رہے گی ۔

دہشت گردون کو پکڑیں لیکن اس نام پر دیگر لوگون کو پکڑنا اور قید کرنا زیادتی ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری دفاع چودھری جعفر اقبال

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/11/2015 - 16:51:50 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان