بھارت کا غیر محفوظ ایٹمی پروگرام۔ چار سالوں کے دوران 11ایٹمی سائنسدان غیر طبعی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:19:37 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:19:36 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:18:41 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:18:41 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 16:16:49 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 15:12:58 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:59:25 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:39:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:39:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:36:09 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:36:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بھارت کا غیر محفوظ ایٹمی پروگرام۔ چار سالوں کے دوران 11ایٹمی سائنسدان غیر طبعی مو ت کا شکار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) بھارت کا غیر محفوظ ایٹمی پروگرام 2009-13سے چار سالوں کے دوران 11ایٹمی سائنسدان غیر طبعی مو ت کا شکار ہوگئے ،لیباٹریوں اور ریسریچ سینٹر زمیں کام کرنے والے 8سائنسدان اور انجینئر زدھماکے ،خود کو پھندا لگانے سمیت سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ،بھارت کے تابکاری مواد کے تشویشناک اخراج نے خطے میں خطرے کا الارم بجاکرعالمی دنیا کو متوجہ کردیا ہے ۔

نیوکلےئر پاور کارپویشن کے تین سائنسدان نہایت پراسرا حالات میں موت کا شکارہوئے 2010ء میں بی اے آرسی ترومبے میں تعینات سی گروپ کے دوسائنسدانوں کی لاشیں ان کے گھروں سے لٹکی ہوئی پائی گئیں جبکہ اسی گریڈ کا ایک اور سائنسدان جو روات بھاٹا میں متعین تھا 2012ء میں اس کی لاش اس کے گھر سے ملی ۔ بی اے آرسی کے ایک کیس میں پولیس طویل علالت کے باعث خودکشی قرار دیتے ہوئے کیس بندکردیا جبکہ باقی کیس تاحال زیر تفتیش ہے ۔

آن لائن کو حاصل ہونے والے ریکارڈ کے مطابق 2010ء میں ترومبے میں بی اے آر سی کی کیمسٹری لیب میں دو ریسریچ فیلوز آتشزدگی کے باعث ہلاک ہوئے ۔ممبئی میں ایک ایف گریڈ کے سائنسدان کو گھر میں قتل کردیاگیا جس پر شک ظاہر کیا گیا کہ اسے گلا گھونٹ کر ماراگیا لیکن تاحال ملزم نہیں پکڑ اگیاہے ۔ آر آر سی اے ٹی کے ایک ڈی گریڈ سائنسدان کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے پولیس نے کیس بندکردیا ہے ۔

2013ء میں کلپاکام میں ایک اور سائنسدان نے سمندر میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا کیس تاحال زیر تفتیش ہے ۔ ممبئی میں ایک اور سائنسدان نے خود کو پھندا لگاکر خودکشی کرلی جبکہ پولیس نے اسے بھی ذاتی وجوہات کی بناء پر خودکشی کا اقدام قرار دیااس کے بعد ایک او رسائنسدان نے دریا میں چھلانگ لگا دی وہ کیس بھی زیر تفتیش ہے

11/11/2015 - 15:12:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان