سپیکر قومی اسمبلی کا وقفہ سوالات کے دور ان وزراء اور سیکرٹریز کی عدم موجودگی کا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:55:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:54:20 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:54:20 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:54:20 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:47:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:47:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:47:54 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:47:22 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:43:26 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:34:36 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 14:34:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سپیکر قومی اسمبلی کا وقفہ سوالات کے دور ان وزراء اور سیکرٹریز کی عدم موجودگی کا نوٹس ‘ اجلاس مختصر وقت کیلئے ملتوی کردیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وقفہ سوالات کے دور ان وزراء اور سیکرٹریز کی عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے اجلاس مختصر وقت کے لئے ملتوی کردیا اور پلاننگ ، داخلہ اور خزانہ کے سیکرٹریز کو فوری طلب کر لیا جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور محمود خان اچکزئی نے بھی وزراء کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور محمود خان اچکزئی اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے ۔

بدھ کو یہاں سپیکر نے وزراء اور سیکرٹریز کی عدم موجوگی کا نوٹس لیتے ہوئے پلاننگ ، داخلہ اور خزانہ کے سیکرٹریز کو فوری طلب کر لیا ۔ سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی حکومت پر خوب برس پڑے اور وقفہ سوالات میں وزراء کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے آدھی مدت گزار لی تاہم آج تک اس نے پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لیا ۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ایوان میں صرف ایک وزیر اور ایک پارلیمانی سیکرٹری موجود ہے۔ وزراء کی آمد تک اجلاس ملتوی کیا جائے اور دوبارہ شروع کیا جائے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جن وزارتوں سے متعلقہ سوالات ہیں ان میں سے تین کے پارلیمانی سیکرٹری حاضر ہیں۔ وقت پر کارروائی شروع کریں گے تو بہتری آئے گی۔ میں وزراء اور ایوان وزیراعظم کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ڈھائی سال سے اس ہاؤس کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ ایک روز بہتری آئے گی تو پھر وہی صورتحال ہو جاتی ہے۔ کور کمانڈر اجلاس میں گورننس کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعظم کابینہ کو ہدایت کریں کہ وہ ایوان میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز تھی تاہم اگر کارروائی چلانی ہے تو چلائیں۔ ہم نے بڑی قربانیاں دے کر جمہوریت لی ہے۔

لوگ اگر اس کو غیر سنجیدہ سمجھیں گے تو یہ بہترین ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم سے اس حوالے سے بات کروں گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ وزراء کو اجلاس میں شرکت کا پابند بنایا جائے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ منگل کو اجلاس میں میں نے یہ استدعا کی تھی کہ اجلاس مقررہ وقت پر شروع کریں لیکن وزراء نہیں ہیں۔ وفاقی زیر رانا تنویر نے کہا کہ خورشید شاہ ہر وزارت کا جواب دیتے تھے۔

سپیکر نے کہا کہ ہم اجلاس کی کارروائی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہمارے دور میں وزیر اعظم خود جواب دیتے تھے۔ وزراء حاضر ہوتے تھے۔ وزراء یہاں نہیں آتے۔ ہم اچھی روایات کی بات کرتے ہیں تاکہ بیس کروڑ عوام کا اس پارلیمنٹ پر اعتماد بحال ہو۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اپوزیشن ایوان چلا رہی ہے‘ کورم کی نشاندہی نہیں کی تاہم اب کریں گے۔ سپیکر نے اجلاس سٹاف کے آنے تک دس منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔اس سے قبل قومی اسمبلی کااجلاس مقررہ وقت سے صرف پانچ منٹ تاخیر سے شروع ہوا تو ایوان میں 27ارکان موجود تھے جبکہ صرف ایک وزیر سکندر حیات بوسن موجود تھے

11/11/2015 - 14:47:54 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان