اسلام آباد: دو شریفوں کے مابین گڑ بڑ ہونے پر ہم سویلین شریف کا ساتھ دیں گے ۔ خیبر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:31:35 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:30:36 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:24:34 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:24:34 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:24:34 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:24:29 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:23:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:23:11 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:18:36 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:18:36 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:18:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد: دو شریفوں کے مابین گڑ بڑ ہونے پر ہم سویلین شریف کا ساتھ دیں گے ۔ خیبر پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں‌بیان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 11 نومبر 2015ء): اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا آج اجلاس ہوا . قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس وقت ایک پیج پر ہوں گے جب آئین بالادست ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں شریف ایک پیج پر ہوں گے تو ہم بھر پور حمایت کریں گے لیکن اگر دونوں شریفوں کے مابین گڑ بڑ ہوئی تو ہم سویلین شریف کا ساتھ دیں گے۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود حان اچکزئی کا کہنا تھا کہ منگل کے روز کورکمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا ہے وہ آئین کی روح کے منافی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروائی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگ اس معاملے پر جان بوجھ کر بیان نہیں دینا چاہیے یا پھر ہم نے بےایمانی سے حلف اُٹھایا ہے.۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی ماحول ہے۔ عراق اور لیبیا ختم ہوگیا ہے جبکہ ادھر داعش کی باتیں ہو رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اُن کی جماعت کسی بھی ایسی خارجہ پارلیسی کی حمایت نہیں کرے گی جو یہاں یعنی پارلیمنٹ میں نہ بنائی گئی ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس بلا کر اعتماد میں لیا جائے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے جاری آپریشن کے نتائج حاصل کرنے اور ملک میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ حکومت انتظامی امور کو بہتر کرے

11/11/2015 - 13:24:29 :وقت اشاعت