فلسطینی اتھارٹی یاسرعرفات کے قاتل کے قریب پہنچ گئی!
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:07:38 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 13:05:46 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:48:18 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:45:46 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:43:02 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:40:38 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:40:38 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:40:38 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:07:57 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:03:21 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 12:03:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

فلسطینی اتھارٹی یاسرعرفات کے قاتل کے قریب پہنچ گئی!

عرفات کی موت سے متعلق اہم شواہد ملے ہیں، کمیشن کا دعویٰ

رام اللہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یاسرعرفات کی موت کے اسباب کے تعین کے لیے قائم کردہ کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں عرفات کی موت سے متعلق اہم شواہد ملے ہیں اور وہ مبینہ طور پر فلسطینی لیڈر کے قاتل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ میجر جنرل توفیق الطیراوی نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال کی چھان بین کے بعد وہ یاسرعرفات کے قاتل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مزید مختصر تحقیقات کے بعد ہم یاسرعرفات کے قاتل تک پہنچ جائیں گے اور جلد ہی قوم کو آگاہ کیا جائے گا کہ عرفات کو کیسے اور کس نے قتل کیا۔ تاہم انہوں نے تحقیقات میں سامنے آنے والے مشتبہ قاتل کے بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی۔فلسطینی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب یاسرعرفات کی 11 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

یاسرعرفات کی موت کے اسباب سے متعلق اب تک کئی دوسرے ملکوں کے ماہرین نے بھی چھان پھٹک کی۔ ان میں فرانسیسی طبی ماہرین خاص طور پر شامل ہیں مگر چند ماہ قبل فرانسیسی عدالت نے یہ کہہ کر مزید تحقیقات روک دی تھیں کہ انہیں یاسرعرفات کو زہر دے کر ہلاک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم یاسرعرفات کی بیوہ سوہا عرفات نے فرانسیسی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دی تھی اور کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے شوہر کو زہر دیا گیا تھا۔ سہا عرفات نے اپنے شوہر یاسرعرفات کو پلوٹینیم 210 نامی خطرناک زہر دے کر قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس حوالے سے ماہرین مختلف آراء ظاہر کرتے آئے ہیں۔

11/11/2015 - 12:40:38 :وقت اشاعت