دیامر بھاشا ڈیم کے نام پر 232ارب روپے کی بندر بانٹ کی گئی ہے ،اقتصادی راہداری منصوبے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 23:02:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 23:02:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:56:46 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:56:46 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:55:15 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:52:59 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:50:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:49:12 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:48:16 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:37:21 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:32:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

سکردو

سکردو شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 23:22:40 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 23:22:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 23:22:43 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 23:22:45 وقت اشاعت: 14/02/2017 - 22:05:08 وقت اشاعت: 14/02/2017 - 22:05:17 سکردو کی مزید خبریں

دیامر بھاشا ڈیم کے نام پر 232ارب روپے کی بندر بانٹ کی گئی ہے ،اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کہیں نظر نہیں آرہا ،شیخ غلام محمد فخرالدین کے مشن کو زندہ رکھیں گے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ امین شہیدی کا تعزیتی ریفرنس سے خطاب

سکردو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سکریڑی و معروف عالم دین علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے نام پر 232ارب روپے کی بندر بانٹ کی گئی ہے ،اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کہیں نظر نہیں آرہا ۔شیخ غلام محمد فخرالدین کے مشن کو زندہ رکھیں گے ۔ منگل کوشیخ غلام محمد فخرالدین کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے بحران نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے ۔

اور حکمرانوں نے دیامر بھاشا ڈیم کو جلد تعمیر کر کے بحران پر قابو پانے کی بجائے دیامر بھاشا ڈیم کے نام پر 232ارب روپے کی بند ر بانٹ کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو وفاقی پارٹیاں سبز باغ دکھا کر اور آئینی حقوق کی فراہمی کے نام پر مسلسل بے وقوف بنا کر اقتدار حاصل کر رہی ہیں ۔لیکن 68سال سے سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ۔

امین شہیدی نے کہا کہ پاک چائنا اکنامک کویڈور منصو بے میں حکومتی دعوے اور یقین دہانیاں اپنی جگہ لیکن زمینی حقائق ہیں کہ اس کثیر المقاصد منصوبے میں گلگت بلتستان کہیں پر بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں کی نیت صاف ہے اور انہیں جی بی کے عوام سے دلچسپی ہے تو وہ حویلیاں اور ڈی آئی خان کے جلسوں کی طرح اکنا مک کوریڈور میں گلگت بلتستان کو شامل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیوں نہیں کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے اپنی ویب سائیٹ پر 550پاکستانی حجاج کی شہادت کی فہرست دی ہے ۔جبکہ پاکستان بے غیرت وزیر یہ تعداد 40ہی بتا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سعودی فرمان رواؤں سے میاں محمد نواز شریف کے پہلے ذاتی تعلقات تھے اب رشتہ داری بھی ہو گئی ہے کم از کم اسی رشتہ داری کے ناطے پاکستانی حجاج کی میتیں تو واپس کرتے ۔انہوں نے کہا کہ علامہ ڈاکٹر شیخ غلام محمد فخرالدین ملت کا اثاثہ تھے اور گلگت بلتستان خصوصا سکردو میں دین الہیٰ کی ترویج خصوصا جی بی کے حقوق کیلئے ایک موثر اور توانا آواز تھے انکی شہادت کا خلا کبھی پُر نہیں ہوگا۔

تا ہم انکے مشن کو ہر صورت میں زندہ رکھیں گے ۔امام جمعہ و الجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ شیخ غلام محمد جیسی شخصیات کی موت پوری قوم کیلئے ناقابل برداشت صدمہ ہے ۔انہوں نے اپنی مختصر سی عملی زندگی میں جس قدر صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا اسکی مثال نہیں ملتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسی نا بضہروز گار شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ہمیں انکی اچانک موت کا دکھ اور رنج ہے تا ہم مشیت الہیٰ کے آگے تسلیم ورضا اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔تعزیتی ریفرنس سے صدر پریس کلب محمد حسین آزاد سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔

10/11/2015 - 22:52:59 :وقت اشاعت