عالمی طاقتوں کی باہمی چپقلش کے منفی اثرات اکنامک کاریڈور پر پڑیں گے ،اسفندیارولی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:20:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:20:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:19:10 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:17:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:17:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:17:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:54:18 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:54:18 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:49:10 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:39:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:39:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پشاور شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 13:18:22 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:25:13 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:51:32 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:51:44 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:59:23 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 17:59:23 پشاور کی مزید خبریں

عالمی طاقتوں کی باہمی چپقلش کے منفی اثرات اکنامک کاریڈور پر پڑیں گے ،اسفندیارولی خان

جنرل راحیل شریف کی مقبولیت سانحہ پشاور ،دہشتگردی کیخلاف ضرب عضب شروع کرنے سے بڑھی ہے،سربراہ عوامی نیشنل پارٹی کا انٹرویو

پشاور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔10 نومبر۔2015ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاک چائنا اکنامک کاریڈور کی تعمیر اور کامیابی کیلئے لازمی ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔ اگر خطے میں جاری کشیدگی اور دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف یہ کہ پورا خطہ عالمی قوتوں کی باہمی چپقلش کا مرکز بن جائیگا بلکہ داعش جیسی خطر ناک اور پرتشدد قوت کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں داعش کا وہ روپ سامنے آ جائیگا کہ لوگ طالبان کے رویے اور مظالم بھی بھول جائیں گے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور امن کے مستقل قیام کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور اس مقصد کیلئے چین اپنا ایک بنیادی کردار ادا کرے۔ اپنی رہائش گاہ پر ایک نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو کے دوران اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کے برعکس چین اپنے کردار کے حوالے سے جہاں ایک طرف ایک غیر متنازعہ کردار کا حامل ہے بلکہ اس کو سنکیانک اور بعض دیگر علاقوں میں خود انتہا پسندی کا بھی سامنا ہے۔

عالمی طاقتوں کی باہمی چپقلش اور کشیدگی کے اثرات نہ صرف خطے کے حالات بلکہ کاریڈور کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں اور اگر امریکہ چین اور روس ’ امریکہ کے درمیان بعض معاملات پر کشیدگی برقرار رہی تو اس سے نہ صرف یہ کہ دونوں اطراف کے پشتون مزید تباہ ہو جائیں گے بلکہ کاریڈور کا منصوبہ بھی خطرے سے دوچار ہو جائیگا کیونکہ کاریڈور نے افغانستان سے ہو کر وسط ایشیاء تک جانا ہے اور اگر افغانستان میں امن سے محروم ہو گا تو اس مں صوبے کا مستقبل سوالیہ نشان بن جائیگا اس لیے لازمی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بداعتمادی اعلیٰ سطحی رابطوں ’ ملاقاتوں کے ذریعے ختم کی جائے بلکہ چین بھی ایک بڑی علاقائی قوت کے طور پر امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں خدشہ ظاہر کیا ’ لگ یہ رہا ہے کہ بعض عالمی قوتیں داعش اور دیگر کے ذریعے اپنے مفادات کے لیے پشتون سر زمین کو پھر سے میدان جنگ بنانے کی خطر ناک پالیسی پر گامزن ہیں اور افغانستان میں جاری کشیدگی اس پالیسی کی جانب اشارہ کر رہی ہے جس پر ہمیں سخت تشویش ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ اگر مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں یا ناکامی سے دوچار ہوئی تو خطہ مزید تباہی کی لپیٹ میں آجائے گا اور داعش بھی قوت پکڑ لے گی ایسی صورت میں داعش کی تباہی طالبان کی طرح صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آجائیگا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ خطرہ شدت اختیار کر جائیگا کہ افغانستان لسانی بنیاد پر تقسیم ہو جائے کیونکہ کشیدگی کی صورت میں ازبک ’ تاجک ’ ترکمن اور ہزارہ اپنے اپنے پڑوسی ممالک کی جانب دیکھیں گے تو افغانستان کے پشتونوں کی بھی مجبوری ہو گی کہ وہ ہماری طرف دیکھیں اور ایسی صورت میں پاکستان کے پشتون اپنے بھائیوں سے لاتعلق نہیں رہ پائیں گے۔

اُنہوں نے خطے میں دہشتگردی کے معاملے پر کئے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ80 کی دہائی میں افغانستان میں امریکی زیر قیادت جس جنگ کا آغاز

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 22:17:25 :وقت اشاعت