نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں مدارس کیلئے مسائل پید اکئے جا رہے ہیں،وفاق المدار س ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:17:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:54:18 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:54:18 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:49:10 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:39:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:39:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:39:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:36:28 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:36:28 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:34:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:34:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں مدارس کیلئے مسائل پید اکئے جا رہے ہیں،وفاق المدار س الشیعہ پاکستان

مدارس کا مالیاتی نظام شفاف ہے ، ٹیکس کٹوتی سے چھوٹ دی جائے ، علامہ نیازنقوی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) وفاق المدار س الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر علامہ نیاز حسین نقوی نے واضح کیا ہے کہ کسی مدرسے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اتحاد تنظیمات مدارس حکومت کے ساتھ تمام معاملات کا حل چاہتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ بینک اکاونٹس کھولنے کا طریقہ کار وضع کرنا اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنٰی قراردینے پر اصولی اتفاق قابل تحسین ہے۔

اس سے باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوگی اور مدارس اپنا فریضہ اچھے انداز سے سرانجام دے سکیں گے۔ بیرونی دورے سے واپسی پر علما سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدار س کی قیادت نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر زوردیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان حکومت سے منظور شدہ دینی مدارس کے پانچ وفاقوں کی تنظیم ہے۔جس سے ملک بھرمیں پچیس ہزار سے زائد دینی مدارس منسلک ہیں۔

مگر نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں مدارس کی قیادت کے لئے مسائل پید اکئے جاتے رہے ہیں۔ستمبرمیں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ہونے والی ملاقات میں مدارس کے لئے ریاستی اداروں کی طرف سے مشکلات پر کھل کر بات چیت سے ابہام دور ہوئے تھے ۔ امیدہے کہ 12۔ نومبر کے وزارت تعلیم سے اجلاس میں پانچوں وفاق المدارس کو باقاعدہ امتحانی بورڈز بھی تسلیم کرلیا جائے گا۔

علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ مدارس خمس، ذکوٰة اور عطیات پر چلنے والے خیراتی ادارے ہیں۔ ان کا مالیاتی نظام شفاف ہے اور ہر سال آڈٹ کروایاجاتا ہے۔ حکومت مساجد اور مدارس کوہر قسمی ٹیکس کٹوتی سے چھوٹ دی جائے ۔ امید ہے کہ اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ اس پر ہمدردانہ غور کرکے مدارس اور مساجد کو ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی سے مستثنیٰ قراردیں گے ، جبکہ پہلے ہی حکومت اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے اس پر اصولی اتفاق کرچکے ہیں ۔

10/11/2015 - 21:39:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان