بہار الیکشن مودی حکومت کیلئے صرف ٹریلر تھا‘ دیگر ریاستوں کے انتخابات کی پوری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 23:24:53 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:50:57 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:34:29 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:28:37 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 22:28:37 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:19:41 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:17:34 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:17:33 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:17:33 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:14:29 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 21:08:59
- مزید خبریں

بہار الیکشن مودی حکومت کیلئے صرف ٹریلر تھا‘ دیگر ریاستوں کے انتخابات کی پوری پکچر ابھی باقی ہے ‘ بھارتی اخبارات کا تجزیہ

اتر پردیش میں وزیرِ اعلیٰ ملائم سنگھ یادیو اور دلت رہنما مایاوتی کو ہندو کارڈ استعمال کرنے پر سب سے زیادہ پریشان کن حالات کا سامنا‘ہندوستان کے سیکیولر گروپس کیلئے راستہ ابھی بھی دائیں بازو کے چیلنجز سے بھرپور ہے‘منزل تک ان کے سفر میں ان کا ذاتی مفاد بھی آڑے آ سکتا ہے‘میڈیا رپورٹس

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء ) بادی النظر میں دیکھیں تو بہار میں مقابلہ ہندوستان کے روایتی سیکیولر پن اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کی بھڑکائی ہوئی ہندوتوا عصبیت کے درمیان تھا۔ ان سادہ مزاج لوگوں کو پورے نمبر ملنے چاہیئں، بھلے ہی یہ اپنی جیت کے لیے بارک اوباما کی مودی کو سرزنش کو بھی کریڈٹ دے رہے تھے۔ اب ہم ان کو دو تہائی ووٹ ملنے کی وجوہات پر بحث کرتے رہیں، مگر نتیش کمار اور لالو پرساد یادَو نے ہندوتوا کے فاشزم کو فی الحال روک دیا ہے۔

یہ نیویارک میں مقیم انتہاپسندوں کے لیے بھی ایک جھٹکا ہے۔ مگر یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ انتہاپسندوں کو ازسرِنو گروپ بندی کرنے میں وقت نہیں لگتا۔ اس سال کی شروعات میں اروِند کیجریوال کی فیصلہ کن کامیابی کے بعد وہ اپنی انہی حرکتوں پر واپس لوٹ آئے ہیں۔ عوامی غم و غصے کے کئی واقعات کے ساتھ ساتھ محمد اخلاق کا بہیمانہ قتل بھی ان حرکتوں میں شامل ہے۔

لالو پرساد یادَو نے کئی زخم کھائے ہیں اور وہ ہندوتوا کے لیے ایک برا خواب ہیں۔ جب لال کشن ایڈوانی بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے دو سال قبل ایودھیا کے سفر پر نکلے تو لالو پرساد بہار کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ یہ ایڈوانی کی سالگرہ تھی جب لالو نے انہیں بہار میں بند کر دیا۔ ایک بار پھر ایڈوانی کی سالگرہ تھی جب لالو نے بہار میں نریندرا مودی کو ہرایا۔

ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنی دیہاتی ہمت کے اس اظہار کے کئی نقصانات بھی جھیلے ہیں۔ نتیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے سراسر نظریاتی بنیادوں پر علیحدہ ہوئے تھے۔ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے بی جے پی کی جانب سے مودی کی نامزدگی پر اپنے راستے جدا کر لیے۔ اس طرح وہ لالو کے قدرتی ساتھی ہیں، بھلے ہی دونوں اپنے اپنے مفاد کے تحت کام کر رہے تھے۔

ان دونوں کا ڈی این اے بھی ملتا جلتا ہے کیونکہ وہ ان کسانوں کے نمائندہ ہیں جن کی زندگیاں پہلے لارڈ کارنوالیس نے اور پھر ان کے ہندوستانی جانشینوں نے برباد کر دی تھیں۔ اتوار کے دن بی جے پی کو دو تہائی اکثریت سے ہرانے کے بعد لالو نے مزاحیہ انداز میں تسلیم کیا کہ، ‘‘مجھے منہ پھٹ کہا جاتا ہے، جو کہ میں ہوں۔ نتیش بہت نرم مزاج ہیں۔

’’ لیکن ابھی آرام اور اطمینان کا وقت نہیں ہے۔ آگے بھی سفر اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ پچھلے 25 سالوں میں رہا ہے۔ ایودھیا، ممبئی، گودھرا، مظفرنگر، صفِ اول کے دانشوروں کے قتل، مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے والے شخص کے قتل، اور دیگر کئی واقعات کے بعد اب مشتعل ہجوم نے اپنا رخ لبرل دانشوروں کی جانب کر لیا ہے۔ بہار کے معاملے پر ہندوتوا حلقے میں اٹھنے والی متوقع انگلیاں دوسروں کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

کیا ہوگا اگر بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو وزیرِ داخلہ بنا دیا جائے جیسا کہ سننے میں آ رہا ہے؟ ہندوستان کے سیکیولر گروپس کے لیے راستہ ابھی بھی دائیں بازو کے چیلنجز سے بھرپور ہے، مگر منزل تک ان کے سفر میں ان کا ذاتی مفاد بھی آڑے آ سکتا ہے۔ جب بہار سے نتائج آئے، تو اسی وقت لیفٹ فرنٹ کیرالہ کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی کامیابی کا جشن منا رہا تھا۔

اس طرح کے نتائج کچھ وقت میں متوقع اسمبلی انتخابات کے رجحانات کا اچھا اشارہ ہیں۔ لیکن ایک پرانی پریشان کن صورتحال اب بھی باقی ہے، اور وہ یہ کہ ایک ریاست میں جو بائیں بازو کا اتحادی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 21:19:41 :وقت اشاعت