درآمدی اشیاء پر 1فیصد اضافی ڈیوٹی اور رعائیتیں ختم کرنے سے درآمدات اور زرمبادلہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 19:43:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 19:43:23 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 19:43:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 19:35:37 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 19:03:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 17:46:47 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 17:00:16 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:57:50 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:52:51 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:52:50 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:20:17
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

درآمدی اشیاء پر 1فیصد اضافی ڈیوٹی اور رعائیتیں ختم کرنے سے درآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوگی،راجہ وسیم حسن

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) تاجر رہنما وانجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے نائب صدرراجہ وسیم حسن نے ایف بی آر کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پوری رکنے کیلئے40ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے حوالے سے سیلز ٹیکس سپیشل پروسیجرز کے ذریعے رعایتی جنرل سیلز ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے چھوٹ ختم کرنے ، اشیاء کی درآمد پر ایک فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے ، ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح دس فیصد بڑھا کر پندرہ فیصد کرنے سمیت ریگولیٹری 10فیصد سے15فیصد بڑھانے سمیت دیگر تجاویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ درآمدی اشیاء پر1فیصد اضافی ڈیوٹی اور رعائتیں ختم کرنے سے درآمدات میں کمی کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قرضوں کے حصول اور آئی ایم ایف کی شرائط پر40ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ صنعتی شعبہ پر ڈالنا چاہتی ہے جس سے صنعتی ترقی پر منفی اثرات پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی و دیگر وجوہا ت کی بناء پر پہلے ہی ملکی درآمدات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 17:46:47 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان