سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار رانا عامز نذیر کو گوجرانوالہ میں میئر کے انتخاب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:57:50 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:57:50 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:56:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:56:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:56:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:54:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:52:50 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:51:17 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:49:27 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:49:27 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:48:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار رانا عامز نذیر کو گوجرانوالہ میں میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار رانا عامز نذیر کو گوجرانوالہ میں میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ۔ رانا عامر نذیر پر ممبر ٹیکنیکل لوکل کمیشن کے عہدے سے 29 ستمبر 2015 کو ریٹائر ہوئے تھے ۔ مخالف فریق کی درخواست پر ٹریبونل نے ان کو الیکشن لڑنے سے روک دیا تھا جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔

منگل کے روز جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ان کی درخواست کی سماعت کی اس دوران ان کی جانب سے ملک قیوم جبکہ مخالف فریق کی جانب سے ڈاکٹر عبدالباسط پیش ہوئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کاغذات نامزدگی کی چھان بین بارے ریٹئرننگ افسران کے اختیارات محدود ہوتے ہیں انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دیتے ہیں ۔

انتخابات کے بعد بھی تو ان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ مختصر فیصلہ جاری کر رہے ہیں تفصیلی وجوہات بعد میں دیں گے ۔ قیوم ملک نے کہا کہ میں خود کمیشن کا حصہ ہوں اس کی سروس میں نہیں ہوں ۔ میں بیرسٹر ہوں اور پریکٹس بھی کرتا ہوں۔ میں حکومت کی نوکری میں نہیں ہوں ۔ لاء افسر کہہ سکتا ہوں ۔ کمیشن کے فنگشنز کے مطابق کام کر رہا ہوں ۔ یہ فل ٹائم یا پارٹ ٹائم جاب نہیں ہے ۔

حکومت لوکل گورنمنٹ رولز کے تحت مقرر کرتی ہے ۔ چیئرمین زکواة و عشر کمیٹی حکومتی ملازم نہیں ہوتا ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یہ ملازم نہیں ہیں پہلے یہ ملازم تھے ۔ یہ پہلے تاثر کا مقدمہ ہے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ کا یہ پہلے تاثر کا کیس کیسے ہے ۔ قیوم ملک نے کہا کہ ریٹئرننگ افسر نے میرے کاغذات نامزدگی منظور کئے ہیں ۔ انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بھی حوالے دیئے ۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ چیئرمین زکواة و عشر کمیٹی ایک بڑا عہدہ ہے اگر وہ حکومتی ملازم نہیں ہیں تو یہ آپ کے حق میں جاتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ کسی کا ملازمت میں ہونا کیا کہلاتا ہے ؟ اس بارے 2007 کا فیصلہ دیکھنا پڑے گا ۔سیکشن (g)152 کے تحت بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ امیدوار حکومتی ملازمت میں ہیں ۔ سول سروس اور سول سرونٹ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

سوئی نادرن کے ملازم کو جیت کے باوجود اس کی کامیابی کا کالعدم قرار دیا گیا کہ ان کی کمپنی وفاقی حکومت کے تحت کام کر رہی ہے۔ لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ۔یہ کہتے ہیں کہ تنخواہ نہیں لیتے اور پارٹ ٹائم بھی نہیں ہے اس نااہلی سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کا کسی ایسے ادارے سے تعلق ہونا چاہئے تھا جو وفاق یا صوبوں میں سے کسی کے تحت قائم ادارے یا کمپنی میں کام نہ کر رہے ہوتے ۔

یہ جب خود کمیشن ہیں تو پھر یہ کیسے نااہلی سے باہر ہیں ۔ سرونگ لوگ بھی نااہلی سے باہر ہیں ۔پولیو ورکرز کی ٹیم بھی ایکروٹمنٹ ہوتی ہے یہ بھی وقتی ملازم ہوتے ہیں ۔ تنخواہ کو باقاعدہ ملازم کی ہوتی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 16:54:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان