قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی کارکردگی لائق تحسین ہے ‘تمام قائمہ کمیٹیوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:44:44 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:43:02 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:43:02 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:43:02 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:37:34 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:37:34 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:37:30 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:37:30 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:37:30 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:17:14 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:17:14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی کارکردگی لائق تحسین ہے ‘تمام قائمہ کمیٹیوں کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے ‘زلزلہ سے پورا ملک متاثر ہوا ‘وزیراعظم نے خود متاثرہ علاقوں کے کئی دورے کئے ‘ تباہ مکانات اور جاں بحق افراد کے معاوضوں میں اضافہ کیا ‘ زلزلہ متاثرین کا اشعار سے پیٹ نہیں بھرے گا ‘حکومت کو اس سنگین معاملے پر ایوان کی تجاویز کو سنجیدہ انداز سے سوچنا ہوگا ‘بہت کم عرصے میں زلزلہ کیلئے سفارشات مرتب کی گئیں ‘سولہ سفارشات میں سے ہر سفارش زلزلہ متاثرین کی فلاح کیلئے ہے

چیئرمین سینٹ رضا ربانی ‘ سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق ‘اپوزیشن لیڈر سینیٹر اعتزاز احسن کاسینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے مرتب کردہ سفارشات پر اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی کارکردگی کو سراہتا ہوں اور تمام قائمہ کمیٹیوں کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے پورا ملک زلزلے کی زد میں ہے اور اس زلزلے سے پور اپاکستان متاثر ہوا ہے ‘ وزیراعظم نواز شریف نے خود کئی دورے کئے ہیں‘ تباہ شدہ مکانات اور جاں بحق افراد کے معاوضوں میں اضافہ کیا ہے‘ زلزلہ متاثرین کا اشعار سے پیٹ نہیں بھرے گا اور پرانے اشعار سے کچھ نہیں ہوگا‘ سینٹ کی مثبت پالیسی اور مقام جو بنا ہے اس کو برقرار رکھا جائے۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کو اس سنگین معاملے پر ایوان کی تجاویز کو سنجیدہ انداز سے سوچنا ہوگا میں صدیق بلوچ کو ڈونڈھ رہا ہوں کیونکہ صرف لودھراں کیلئے اڑھائی ارب روپے دیئے گئے وزیراعظم نے کہا کہ دو ارب روپے مانگے میں اڑھائی ارب دیتا ہوں میں ان زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کسی صدیق بلوچ کو ڈھونڈتا ہوں کہ حکومت وہاں بھی کسی صدیق بلوچ کیلئے کسی فنڈ کا اعلان کرے۔

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے سینٹ کی کابینہ سیکرٹریٹ کی قائمہ کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت کم عرصے میں زلزلہ کے حوالے سے سفارشات مرتب کی ہیں اور سولہ سفارشات میں سے ہر سفارش زلزلہ متاثرین کی فلاح کے لئے ہے۔ قائمہ کمیٹی کی اس کوشش پر ان کو داد دیتا ہوں۔ وہ منگل کو سینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی زلزلہ متاثرین کے حوالے سے مرتب کی گئی سفارشات پر اظہار خیال کر رہے تھے ۔

اس موقعہ پر سینیٹر طاہر حسین مشہدی،سینیٹر کریم احمد خواجہ ،سینیٹر نسرین جلیل ، سینیٹر الیاس بلور،سینیٹر سراج الحق،سینیٹر مشاہد حسین سید، بیرسٹر جاوید عباسی ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سعید الحسن مندوخیل،سینیٹر میر کبیر ،سینیٹر محسن عزیز ،سینیٹر نعمان وزیر خٹک،سینیٹر صلاح الدین ترمذی،سینیٹر شاہی سید،سینیٹر فرحت الله بابر ،سینیٹر کامل علی آغا ،گا سینیٹر تاج حیدر نے بھی اظہا ر خیا ل کیا ۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے عمارتی ضابطہ 2007 کو نافذ نہ کئے جانے سے قدرتی آفات کی وجہ سے نقصانات کا سامنا ہے۔ زلزلہ پروف عمارتوں کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت کی ہے عمارتی ضابطہ کے مطابق ایسی عمارتیں بنائی جانی تھیں جو دس شدت کا زلزلہ برداشت کرے عمارتی ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے بھی سزا کا تعین کیا جائے۔

اسی خلاف ورزی کی وجہ سے پچاس سے زائد لوگ لاہور میں جاں بحق ہوئے جبکہ قانون موجدو ہے تو اس پر عمل درآمد کروایا جائے اور سروے ہونا چاہئے اور عمارتوں کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ آج عمارتیں گرنے سے ہمیشہ غریب مرتے ہیں پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ عمارتیں بنتی ہیں اور پی ای سی میں سفارشی لوگوں کو تعینات نہ کیا جائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔

سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے ٹاورز بنائے جاتے ہیں جو بہتر ہوتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ جو بھی عمارت بنتی ہے اس کو عمارتی ضابطہ کے مطابق بنایا جانا چاہئے سینیٹر سراج الحق نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کوئی مکمل تباہ گھر دو لاکھ روپے میں نہیں بنتا اور زلزلہ سے تقریباً گھر مکمل تباہ ہوگئے ہیں مکمل تباہ گھروں کا معاوضہ پانچ لاکھ ہونا چاہئے سرکاری عمارات‘ سڑکیں اور پلوں کیلئے واضح پالیسی بنائی جانی چاہئے۔

والی سوات کے دور میں تعمیر ہونے والی عمارتیں سلامت اور حکومت کی جانب سے تعمیر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 16:37:34 :وقت اشاعت