گیس کی یومیہ پیداوار 4 ارب مکعب فٹ اور تیل کی پیداوار 78 ہزار بیرل سے زائد ہے‘ تیل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:15:00 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:14:52 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:09:32 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:09:32 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:09:32 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:08:19 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:05:36 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:05:36 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:04:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:01:58 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 16:01:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

گیس کی یومیہ پیداوار 4 ارب مکعب فٹ اور تیل کی پیداوار 78 ہزار بیرل سے زائد ہے‘ تیل اور گیس کانفرنس رواں ماہ ہوگی ‘ وزیر پٹرولیم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء)سینٹ کوبتایاگیا ہے کہ گیس کی یومیہ پیداوار 4 ارب مکعب فٹ اور تیل کی پیداوار 78 ہزار بیرل سے زائد ہے‘ تیل اور گیس کانفرنس رواں ماہ ہوگی ‘ الیکشن کمیشن کے ممبران کی مدت اگلے سال 12 جون تک ہے‘ گریڈ 17 سے 22 تک کی خالی آسامیوں کو جلد پر کرلیا جائیگا ‘مکانات خالی کرانے کے لئے ہمارے پاس کوئی فورس نہیں‘ سٹیٹ آفیسر کو مجسٹریٹ کے اختیارات مل جائیں تو مسئلہ حل ہو جائیگا ‘دس سال کے دوران تیل اور گیس کے شعبے میں 169 لائسنس جاری کئے گئے ‘رواں سال قرعہ اندازی کے بعد 533 حج درخواستوں کے امیدواروں نے اپنی رقوم واپس لے لیں۔

منگل کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر کریم احمد خواجہ اور سینیٹر خالدہ پروین کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے ایک ممبر کی ماہانہ تنخواہ 6 لاکھ 21 ہزار 422 روپے ہے۔ ان ممبران کو 13 جولائی 2011ء سے پانچ سال کے عرصے کے لئے تعینات کیا گیا ہے اور ان کا عرصہ 12 جون 2016ء کو مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن میں گریڈ 17 اور گریڈ 22 میں کل 351 افسران کام کر رہے ہیں۔ خالی آسامیوں پر جلد تعیناتی کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 78‘ خیبر پختونخوا میں 73‘ سندھ میں 63 اور بلوچستان میں 71 افسران کام کر رہے ہیں۔سینیٹر کریم احمد خواجہ اور جہانزیب جمالدینی کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال خان نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک میں گیس کی پیداوار چار ارب دس کروڑ 50 لاکھ مکعب فٹ اور تیل کی پیداوار 78 ہزار 62 بیرل یومیہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیل و گیس کی پیداوار میں صوبوں کو دی جانے والی رائلٹی 12.5 فیصد کے حساب سے ویل ہیڈ پرائس سے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ تیل وگیس کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں صوبوں کے ساتھ ساتھ اس شعبے سے متعلقہ افراد کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس میں سرمایہ کاری اور ریگولیٹری امور بھی زیر غور آئیں گے۔وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی نے سینیٹر خالدہ پروین‘ عتیق شیخ اور شاہی سید کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت 116 ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سرکاری گھروں پر قابض ہیں‘ ہمارے پاس مکان خالی کرانے کے لئے کوئی فورس نہیں ہے‘ بعض پولیس اہلکاروں نے بھی مکانوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

بعض اوقات مجسٹریٹ بھی مکان خالی کرانے کے لئے دستیاب نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی مدد کے بغیر مکانات خالی کرانا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے تجویز دی ہے کہ سٹیٹ آفیسر کو اگر مجسٹریٹ کے اختیارات مل جائیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مکانات پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے حکم امتناعی کی وجہ سے بھی مکان خالی کرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

حکم امتناعی لینے والے سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کرلیتے ہیں جبکہ ہم زیادہ فیس پر وکیل نہیں رکھ سکتے۔ اس معاملے کے لئے بھی قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔ وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال خان نے بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن نوابشاہ تک بچھائی جائے گی‘ بلوچستان کو ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایران‘ پاکستان گیس پائپ لائن نوابشاہ تک جائے گی‘ پائپ لائن کے ڈیزائن میں گیس کی فراہمی کے لئے پائپ لائن کے مکمل روٹ پر نو آف ٹیک پوائنٹس کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ رائلٹی قانون کی مناسبت سے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ٹرانزٹ فیس کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس منصوبے کے تحت گیس ہم چونکہ درآمد کر رہے ہیں

اس لئے رائلٹی نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کے شعبے میں جن کمپنیوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 16:08:19 :وقت اشاعت