مالاکنڈ‘ سوات‘ چترال سمیت زلزلے سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی لگا کر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:57:20 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:57:20 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:57:20 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:55:31 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:55:31 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:55:31 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:44:21 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:40:45 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:24:07 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:24:07 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 15:23:09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

مالاکنڈ‘ سوات‘ چترال سمیت زلزلے سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی لگا کر ہنگامی ریلیف اور بحالی آپریشن شروع کیا جائے ‘تمام ترقیاتی فنڈز منجمد کرکے زلزلہ زدگان کی امداد پر خرچ کئے جائیں‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی متاثرہ علاقے میں تین دن کیمپ لگا کر متاثرین کی ریلیف اور بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کریں

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا نکتہ اعتراض پرحکومت سے مطالبہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مالاکنڈ‘ سوات‘ چترال سمیت زلزلے سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی لگا کر ہنگامی ریلیف اور بحالی آپریشن شروع کیا جائے ‘تمام ترقیاتی فنڈز منجمد کرکے زلزلہ زدگان کی امداد پر خرچ کئے جائیں‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی متاثرہ علاقے میں تین دن کیمپ لگا کر متاثرین کی ریلیف اور بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کریں۔

منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقے بھی پاکستان کا حصہ ہیں ان کا بھی حق بنتا ہے کہ حکومت وہاں ریلیف اور بحالی کے کام کرے ان علاقوں کو بھی لاہور‘ کراچی اور ملک کے دیگر شہروں کی طرح حقوق اور وسائل ملنے چاہئیں ہم ان کو تیسرے درجے کے شہری سمجھتے ہیں زلزلہ زدہ علاقوں میں بڑی تباہی آئی ہے ان کی نظریں ہماری طرف لگی ہیں متاثرین کی نظریں ہم پر لگی ہیں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں وہاں تک منفی درجہ حرارت ہے اس لئے ریلیف اور بحالی ایمرجنسی کی بنیاد پر ہونی چاہئے حکومت ایمرجنسی لاگو کرے اور تمام ترقیاتی منصوبے روک کر فنڈ زلزلہ زدگان کے لئے مختص کئے جائیں۔

جو لوگ سردی سے مر رہے ہیں ان کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں چین میں زلزلہ آیا تو وہاں کی حکومت سرگرم تھی حکمران سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوں تو پتہ چلے کہ سردی کیا ہوتی ہے گرم ڈرائنگ روموں اور ایوانوں میں بیٹھ کر سردی میں بے یارو مدد گار لوگوں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوسکتا۔ وفاق اور پشاور میں بیٹھے حکمرانوں کو زلزلہ متاثرین کے دکھوں کا احساس کرنا چاہئے اگر صرف حکومت اشتہارات کا پیسہ ہی متاثرین پر لگا دے تو ان کی تقدیر بدل جائے گی انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ زلزلہ زدگان کی ریلیف اور بحالی کے لئے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی لگا کر تمام فنڈز منجمد کرکے بحالی کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی متاثرہ علاقوں میں تین دن کے لئے کیمپ لگا کر خود ریلیف اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کریں۔

10/11/2015 - 15:55:31 :وقت اشاعت