انتخابات شفاف تو تھے ‘ آزاد نہیں ‘ آنگ سان سوچی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:57:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:57:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:57:03 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:55:29 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:55:29 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:55:29 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:29:14 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:29:14 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:29:14 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:28:08 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:28:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

انتخابات شفاف تو تھے ‘ آزاد نہیں ‘ آنگ سان سوچی

ینگون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء)میانمار میں حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ انتخابات شفاف تو تھے آزاد نہیں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اتوار کو ہونے والے انتخابات شفاف تو تھے لیکن آزاد نہیں۔انتخابات کے بعد دیے جانے والے پہلے انٹرویو میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے مینمار کے لوگوں کو مبارکباد دی۔

اگرچہ آئین کے تحت وہ صدر نہیں بن سکتیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی راستہ ڈھونڈ نکالیں گی۔میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ۔اس سے قبل میانمار میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ملک میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ انتخابات کے نتائج کے سرکاری اعلان سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔

این ایل ڈی کے ایک ترجمان ون تھین نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کو 70 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ این ایل ڈی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے کہا کہ ’آپ سب کو انتخابی نتائج کا اندازہ تو ہو ہی گیا وجی کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی ڈویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) سنہ 2011 سے اقتدار میں ہے۔

10/11/2015 - 13:55:29 :وقت اشاعت