13 سال گزرنے کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈگریوں کی تصدیق کے لئے جدید تکنیک نہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:45:51 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:44:56 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:44:56 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:43:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:41:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:41:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:41:22 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:38:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:38:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:38:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:21:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:23 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:29 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:31 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:56 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:57 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:10:00 اسلام آباد کی مزید خبریں

13 سال گزرنے کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈگریوں کی تصدیق کے لئے جدید تکنیک نہ اپنا سکا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) اپنے قیام کو 13 سال گزرنے کے باوجود ہائیرایجوکیشن کمیشن یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کی شناخت اور تصدیق کے لئے جدید تکنیک نہ اپنا سکی اور اس کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ میڈیا رپورتس کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا تصدیق اور ایکری ڈیٹیشن (AA) ڈیپارٹمنٹ ڈگریوں کے تصدیق کے عمل کی نگرانی کرتا ہے تاہم ڈگریوں کی تصدیق کے لئے روایتی طریقہ ہی اختیار کرتا ہے کیونکہ متعلقہ یونیورسٹیوں کے ساتھ کاؤنٹر چیکنگ کے لئے ان لائن ڈیٹا بیس نہیں ہے۔

کمیشن صرف ان افراد کی ڈگری کی چیکنگ اور تصدیق کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے جو کسی اعلیٰ شخصیت کی ہو یا اس میں شک پایا جاتا ہو۔ اے اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد رضا چوہان کا کہنا ہے کہ کئی طبعی ریکارڈز اور تعلیمی عوامل ہیں جن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ مشکوک ڈگریوں کو روکنے کے لئے انہوں نے نادرا کے ساتھ مل کر ایک سافت وئیر کو تشکیل دے دیا ہے۔

10/11/2015 - 12:41:22 :وقت اشاعت