نیپال: پانچ منٹ میں بینائی واپس لانے والا انوکھا ڈاکٹر
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:24:18 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 13:03:44 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:44:56 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:43:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:43:25 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:36:41 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:14:48 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:06:10 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:06:09 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:01:16 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:01:16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

نیپال: پانچ منٹ میں بینائی واپس لانے والا انوکھا ڈاکٹر

نیپال(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 10 نومبر 2015ء): نیپال سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو اپنے مریضوں کی بینائی پانچ منٹ میں واپس لانے کا اعزاز حاصل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سندرک روئٹ اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کی بینائی واپس لا چکے ہیں۔جو کہ کسی بھی ڈاکٹر کی تاریخ میں ا ب تک کی سب سے زیادہ مریضوں کی تعداد ہے۔ موتیا کے آپریشن کے محض ایک دن کے بعد ڈاکٹر سندرک مریض کی آنکھوں سے پٹی اتارتے ہیں اور مریض صاف و شفاف دیکھنے لگتا ہے۔

ڈاکٹر سندرک ایک نیپالی طبیب چشم ہیں جنہیں اندھے پن کو دور کرنے اور مریضوں کی بینائی لوٹانے پر چیمپئین شپ کا ایوارڈ دیا جانا چاہئیے کیونکہ موتیے کا جو علاج دیگر ممالک میں بھاری رقم کے عوض بھاری مشینری کے ذریعے کیا جاتا ہے اس کا علاج ڈاکٹر سندرک ایک آنکھ کے لیے محض 25 ڈالر کے عوض کرتے ہیں۔ اگر آپ کا تعلق کسی پسماندہ ملک سے ہے اور آپ کا علاج نا ممکن ہے تو ڈالٹر سندرک آپ کا علاج ایک مائیکرو سرجری کے تحت محض پچیس ڈالر کے عوض کر سکتے ہیں اور تقریبا ہر بار ہی ڈاکٹر سندرک کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سندرک کی ایک مریضہ تھلی مایا تھنگ نامی پچاس سالہ عورت تھی جس کا کہنا تھا کہ موتیے کے سبب مجھے کچھ بھی نظر نہیں آتا جس کے باعث اکثر میرے اہل خانہ کو بھوکا ہی سونا پڑتا ہے کیونکہ میں نہ تو کھانا پکا سکتی ہوں اور اکثر و بیشتر بینائی نہ ہونے کی وجہ سے گر بھی پڑتی ہوں۔ تھلی مایا کا علاج بعد ازاں ڈاکٹر سندرک نے ہی کیا جس کے بعد تھلی مایا کا کہنا تھا کہ پہلے میں گھٹنوں کے بل چلتی تھی لیکن بینائی واپس آنے کے بعد میں خود سے اُٹھ کر چلنے کے قابل ہو گئی ہوں۔

ڈاکٹر سندرک کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سندرک کا طریقہ علاج اب امریکہ کی یونیورسٹیز میں بھی پڑھایا جانے لگا ہے۔ 61 سالہ ڈاکٹر سندرک کا کہنا ہے کہ اگر ہم نیپال میں یہ کر سکتے ہیں تو اس طرح دنیا کے کسی بھی کونے میں اس طریقے سے موتیے کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر کا حوالہ
10/11/2015 - 12:36:41 :وقت اشاعت