سپریم کورٹ زین قتل ازخود نوٹس کیس، لواحقین اور استغاثہ کے تمام گواہ طلب
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:09:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:09:04 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 12:00:13 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:51:53 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:50:48 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:50:10 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:44:00 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:44:00 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:43:09 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:41:51 وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:41:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ زین قتل ازخود نوٹس کیس، لواحقین اور استغاثہ کے تمام گواہ طلب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) سپریم کورٹ میں زین قتل ازخود نوٹس کیس میں لواحقین اور استغاثہ کے تمام گواہوں کو طلب کر لیا گیا ۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ گواہوں کی عدالت میں پیشی کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے ۔ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ گواہوں اور مدعی کو آئندہ سماعت پر مکمل سیکورٹی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے ۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ گواہوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا گیا اور اس طرح کے حالات میں پولیس نے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کیا ۔ گواہ کیسے منحرف ہوئے ۔ ٹرائل کے دوران مدعی نے تحفظ کے لئے درخواست بھی دائر کی تھی اہم معاملہ میں آپ کیسے لاعلم رہ سکتے ہیں۔ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ اگر گواہ منحرف ہو گئے تو آپ کو ملزمان کی بریت کو کیسے چیلنج کریں گے جبکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا ہے کہ مصطفیٰ کانجو سمیت ملزمان کی بریت کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا رہی ہے ۔

گواہوں میں پرائیویٹ اور سرکاری دونوں طرح کے گواہ شامل ہیں ۔ منگل کے روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اس دوران آئی جی پنبجاب مشتاق سکھیرا سمیت اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کے منحرف ہونے اور مدعی کی جانب سے درخواست واپس لیے جانے کی بنا پر ملزمان کو رہا کیا گیا ۔اس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ مدعی نے آپ کو تحفظ کے لئے درخواست دی تھی اس پر آپ نے کیا کیا ؟ اس پر آئی جی پنجاب نے درخواست کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی کوئی درخواست دائر ہی نہیں ہوئی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ درخواست دائر ہو اور آپ کو علم ہی نہ ہو یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اس سے آپ کیسے لاعلم رہ سکتے ہیں ۔آپ کو چاہئے تھا کہ اپنا کردار ادا کرتے تو پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے بتایا کہ گواہ پیسے لے کر منحرف ہوئے ہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/11/2015 - 11:50:10 :وقت اشاعت