چیئرمین سینیٹ نے پی آئی اے کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کردی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:22:19 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:22:19 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:13:33 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:12:37 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:12:37 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:12:37 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:11:09 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 22:11:09 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:54:32 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:54:32 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:52:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

چیئرمین سینیٹ نے پی آئی اے کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کردی

پی آئی اے ملازمین کی تعداد دوسری فضائی کمپنیوں سے زیادہ نہیں ، مزدور بہت زیادہ ہونے کا پراپیگنڈہ سرمایہ دارانہ ہے،رضا ربانی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء)چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے پی آئی اے کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کرتے ہوئے کہاہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد دوسری فضائی کمپنیوں سے زیادہ نہیں ہے، یہ سرمایہ دارانہ پروپیگنڈاہے کہ مزدوربہت زیادہ ہیں،جبکہ اراکین سینیٹ نے کہا کہ دسمبر کے آخر تک پی آئی اے کی نجکاری کاعمل شروع ہوجائیگا،حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہ کرے،مڈل ایسٹ کی تین ایئرلائن کو حکومت نے کھلی چھٹی دی جس سے پی آئی اے کے خسارے میں اضافہ ہوا، جان بوجھ کر پی آئی اے کے ساتھ ایسا کیاجارہاہے تاکہ اسے سستے داموں فروخت کردیاجائے جبکہ حکومتی سینیٹرمشاہداﷲ خان نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں کررہی، پرائیویٹ کرنی ہوتی تو 16 جہازو ں پر کی جاتی،40جہازوں پر کون نجکاری کریگا۔

پیر کو سینٹ کے اجلاس میں سینیٹرفرحت اﷲ بابر کی تحریک پر بحث کاآغاز کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی ائیرلائنوں کو ترجیحی طور پر پاکستان میں مسافروں کو لانے لے جانے کے پی آئی اے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے تاکہ پی آئی اے کو اونے پونے بیچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان کا سفر کرتے رہتے ہیں اور اس کے علاوہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی قیمتیں بین الاقوامی طور پر 49فیصد کم ہوگئی ہیں۔

اس کے باوجود پی آئی اے کو نقصان دیا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے کا نقصان سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہو رہا ہے اور پی آئی اے میں ضرورت سے زیادہ اسٹاف اس کے نقصان کی وجہ ہے۔ پی آئی اے کے ملازمین کی تنخواہ کا بل آمدنی کا 16 سے 17فیصد تک ہے جو کہ اس کاروبار میں عام طور پر 25فیصد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ائرلائن کا کاروبار مقابلے کی منصفانہ صورتحال میں فائدہ مند ہوتا ہے لیکن اس وقت مشرق وسطیٰ کی تین ائرلائنوں امارات، ابوظہبی اور قطر آئرلائن کو ترجیحی طور پر پاکستان سے مسافر لانے اور لے جانے کی سہولت دے دی گئی ہے۔

اس کی مثال دیتے ہوئے سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ صرف دو سال قبل قطر ائرویزکی اسلام آباد اور لاہور کے لئے ہفتے میں صرف چار پروازیں تھیں جبکہ اس وقت قطر ائرویز کی صرف اسلام آباد کے لئے 14پروازیں ہیں اور اس کے علاوہ اس ائرلائن کو سیالکوٹ، فیصل آباد کے روٹ بھی دے دئیے گئے ہیں۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ وزارت خارجہ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے شیخوں کو شکار کے لائسنس دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ میل ہے۔

اور اسی طرح ایئرلائن کے کاروبار میں قومی ائرلائن کو نظرانداز کرکے مشرق وسطیٰ کی ائرلائنوں کو ترجیح دینا قومی ائرلائن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے وہ ائرلائن ہے جس نے ایشیا میں سب سے پہلے 707بوئنگ طیارے خریدے تھے اور اسی ائرلائن نے ایشیا میں سب سے پہلے کارگو فلائٹ شروع کی تھی۔ اس کے علاوہ اسی ائرلائن نے پی آئی اے شیور، انجینئرنگ کے شعبوں کے علاوہ ہمارے کھلاڑیوں کو ملازمتیں مہیا کی ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی یہ ساری کامیابیاں اس وقت ہوئی تھیں جب اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی بیرون ملک نہیں رہتے تھے۔ انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کی غیرمساوی مسابقت کی تحقیقات کروائی جائیں جس کی وجہ سے پی آئی اے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور پی آئی اے کو سستی قیمت پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ کرنل(ر)طاہر حسین مشہدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کے بجائے اس کو منافع بخش ادارہ بنایاجائے اس کے روٹس بحال کئے جائیں۔

مشاہد حسین سید نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پی آئی اے وفاق کی علامت ہے اس کوپرائیویٹائز نہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/11/2015 - 22:12:37 :وقت اشاعت