فکر اقبال سے دوری کا نتیجہ داعش اور طالبان جیسے گروہوں کا وجود ہے ، امت میں تنگ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:32:44 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:29:15 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:29:15 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:28:00 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:26:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:26:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:26:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:25:05 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:23:47 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:23:47 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 21:23:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

فکر اقبال سے دوری کا نتیجہ داعش اور طالبان جیسے گروہوں کا وجود ہے ، امت میں تنگ نظری کے باعث اقبال کے بعد کوئی فلسفی پیدا نہیں ہوا، اقبال کے فلسفہ خودی کی روشنی میں امریکہ سے گدائی کی بجائے خود انحصاری پر عمل کریں

جمعیت علما پاکستان نیازی کے سربراہ پیر معصوم نقوی کا فکر اقبال سیمینا رسے خطاب , ش

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء ) جمعیت علما پاکستان نیازی کے سربراہ اور آستانہ حسینی کے سجادہ نشین پیر سید محمد معصوم حسین نقوی نے کہا ہے کہ علامہ محمداقبال کی شاعری اور فکر اقبال کو فروغ دے کر داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کا خاتمہ ممکن ہے،فکر اقبال سے دوری کا نتیجہ داعش اور طالبان جیسے گروہوں کا وجود ہے ، امت میں تنگ نظری کے باعث اقبال کے بعد کوئی فلسفی پیدا نہیں ہوا، اقبال کے فلسفہ خودی کی روشنی میں امریکہ سے گدائی کی بجائے خود انحصاری پر عمل کریں ۔

وہ پیر کو جے یو پی داتا گنج بخش ٹاون کے زیر اہتمام شاعر مشرق مفکر پاکستان کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقد ہ فکر اقبال سیمینار سے خطاب کررہے تھے ۔ پیر معصوم شاہ نقوی نے کہا ہے کہ داعش اور طالبان میں کوئی فرق نہیں۔ مگر افسوس کہ حکمرانوں کو یہ نظر نہیں آرہااور وہ پاکستان میں اس ناسورکی موجودگی سے ہی انکاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اقبال کے بعد امت مسلمہ میں کوئی فلسفی پیدا نہیں ہوا، جس کی وجہ تنگ نظری اور انتہا پسندی کا بڑھتا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/11/2015 - 21:26:55 :وقت اشاعت