غیر ملکی مریض بھی رعشہ کے ڈی بی ایس آپریشن کے لئے جنرل ہسپتال آنا شروع ہوگئے ہیں،پروفیسر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:30:32 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:17:51 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:17:51 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:17:51 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:14:29 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:14:28 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:13:13 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:13:13 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:13:13 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:12:34 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 19:11:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

غیر ملکی مریض بھی رعشہ کے ڈی بی ایس آپریشن کے لئے جنرل ہسپتال آنا شروع ہوگئے ہیں،پروفیسر خالد محمود

پرنسپل پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و جنرل ہسپتال کا پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء )جنرل ہسپتال لاہور میں قائم پاکستان میں رعشہ اور پارکنسن کے امراض کے واحد آپریشن سنٹر میں پہلے سال کے دوران بیس مریضوں کے جدید طریقہ علاج ڈی بی ایس کے ذریعے کامیاب آپریشن کئے گئے ، اس طریقہ علاج کی کامیابی کے بعد اب غیر ملکی مریضوں نے بھی جنرل ہسپتال کے ڈی بی ایس آپریشن سنٹر ٰسے علاج کے لئے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے ،ڈی بی ایس مہنگا طریقہ علاج ہے تین مریضوں کے اخراجات وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے برداشت کئے ،مخیر حضرات کی اس کار خیر میں شمولیت کے بغیر پاکستان میں رعشہ او رپارکنسن کے تقریباً 30 لاکھ مریض اس مرض سے چھٹکارہ نہیں حاصل کر سکتے جنرل ہسپتال کاڈی بی ایس آپریشن سنٹر نہ صرف پاکستان بلکہ تمام اسلامی ممالک میں اپنی نوعیت کی پہلی مکمل علاج گاہ ہے - ان خیالات کا اظہار پرنسپل پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی و ممتاز نیوروسرجن پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے سوموار کو پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا - اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر آف نیورولوجی ڈاکٹر شاہد مختار بھی موجود تھے- پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ایک سال قبل جب جنرل ہسپتال ڈی بی ایس آپریشن سنٹر کا آغاز ہوا تو وزیر اعلی پنجاب نے سنٹر کے لئے 15کروڑ روپے کے طبی آلات فراہم کئے - جنرل ہسپتال نیورو سرجری یونٹ ٹو کے علاوہ پورے پاکستان میں اس مرض کی کوئی علاج گاہ نہیں جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا افراد کو مشکلات کا سامنا ہے اس مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان میں کسی بھی ہسپتال کے ڈاکٹر اگر ہم سے ٹریننگ لینا چاہیں تو ہم اس کے لئے تیار ہیں - انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ علاج بڑا مہنگا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے سنٹر میں وزیر اعلی کے علاوہ ایک مریض کا آپریشن انجمن بہبودی مریضاں نے بھی اپنے خرچ پر کرایا - تاہم بیرون ملک آنے والے اس آپریشن پر خرچ کی نسبت پاکستان میں پھر بھی کم خرچ پر یہ آپریشن ہو جاتا

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/11/2015 - 19:14:28 :وقت اشاعت