پی سی بی کو کرکٹ سیریز کیلئے 72گھنٹے میں بھارتی جواب کی امید
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:36:13 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:36:10 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:33:02 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 16:46:00 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 16:40:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 16:32:59 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 16:27:25 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:34:22 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:15:27 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:32:09 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:32:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پی سی بی کو کرکٹ سیریز کیلئے 72گھنٹے میں بھارتی جواب کی امید

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ تر ین اخبار9نومبر۔2015ء ) وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ پی سی بی پر امید ہے کہ بھارتی بورڈ سیریز کے حوالے سے حتمی جواب اگلے72 گھنٹے میں دے دے گا ۔ بھارتی بورڈ کے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لئے اپنی حکومت سے اجازت طلب کررکھی ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہریار خان کا کہنا ہے کہ اس وقت جب کہ بہار کے انتخابات میں مودی کی بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہےلیکن مجھے سیریز کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی ہے۔

لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ نومبر کا دوسرا ہفتہ شروع ہوگیا ہے مجھے سیریز کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ اب چوںکہ بہار کے انتخابات کا نتیجہ آگیا ہے ہم توقع کررہے ہیں کہ بھارتی بورڈ ، حکومت سے مشورے کرنے کے بعد ہمیں ہاں یا نہ میں جواب دے گا ۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا ابھی تک رویہ مایوس کن ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوری 2009ء میں بھارت کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن بھارتی ٹیم نے سکیورٹی وجوہات کے سبب یہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

شہریارخان کا خیال ہے کہ اگر پاک بھارت کرکٹ سیریز نہ ہوئی تو پاکستانی حکومت پاکستانی ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے لیے بھارت جانے سے روک سکتی ہے ۔ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی آئندہ سال گیارہ مارچ سے تین اپریل تک بھارت میں منعقد ہوگا ۔ جس کے لئے ابھی تک شہروں کا اعلان نہیں ہوا ہے ۔ شہریارخان نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومت ان سے یہی کہے گی کہ آپ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹونٹی میں شرکت کے لیے بھارت نہ جائیں کیونکہ بھارت میں پاکستانیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ انھوں نے گلوکار غلام علی اور سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری کی مثال دی ۔

09/11/2015 - 16:32:59 :وقت اشاعت