امریکہ شام میں روسی فوج کی جارحیت روکنے کے لیے ہنگامی پلان تیار کر رہا ہے،امریکی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 18:19:38 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:58:09 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:37:28 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:37:28 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 17:36:15 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:44:07 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:41:46 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:41:46 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:41:46 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:32:07 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:32:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

امریکہ شام میں روسی فوج کی جارحیت روکنے کے لیے ہنگامی پلان تیار کر رہا ہے،امریکی وزیر دفاع

کیلیفورنیا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء)امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں روسی فوج کی جارحیت روکنے کیلئے ہنگامی پلان تیار کر رہا ہے۔ کیلیفورنیا میں دفاع سے متعلق ایک فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے روس کی کسی بھی جارحیت کو روکنے کا ہنگامی پلان تیار کر رہا ہے۔

ایک دوسرے بیان میں امریکی دفاع کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جنوبی بحر چین کے سمندر میں بحری جہازوں کی آمد ورفت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازع کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے علاقائی ممالک کی بحری خود مختاری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زودیتے ہوئے کہا کہ امریکا عالمی پانیوں کے اپنے مفادات کے دفاع کا تحفظ کرے گا۔آشٹن کارٹر کا کہنا تھا کہ ان کا جنوبی چین کے سمندری حدود میں آبی ٹریفک کے حوالے سے علاقائی ممالک کی تشویش پر امریکا کو بھی گہری تشویش لاحق ہے۔

امریکا بحری حدود میں ہونے والی کسی بھی غلطی یا باعث نزاع واقعے کو خطرات کی نظر سے دیکھے گا۔شام میں روس کی فوجی مداخلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں ں ے کہا کہ امریکا کا مسئلہ شام کے حوالے سے اپنا ایک اصولی موقف ہے اور ہم روس کی فوجی مداخلت کو مسئلے پر منفی اثرات کا موجب قرار دیتے ہیں۔ امریکا شام کے بحرن کو سیاسی انداز میں حل کرنے کا خواہاں ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیردفاع نے شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں بات چیت پر ایک ایسے وقت میں رور دیا ہے کہ حال ہی میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ وہ شام میں اپنے فوجی اتارنے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ امریکا پچھلے پانچ سال شام میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔دو سال قبل امریکا نے اپنے 65 اتحادی ملکوں کے ساتھ ملک کر شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی کہلوانے والی تنظیم داعش کی سرکوبی کے لیے کوشاں ہے مگر اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

امریکا نے شام میں فوجی اتارنے کی بات ایک ایسے وقت میں کی ہے جب حال ہی میں روس نے شام میں اپنی فوجی مہم شروع کر دی ہے۔ دو بڑی طاقتوں کا شام کی محاذ جنگ میں متوازی انداز میں فوجی اتارنے سے مسئلے کے مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

09/11/2015 - 15:44:07 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان