صہیونی انتہاء پسندوں کی فلسطینیوں کیخلاف دشمنی کھل کر سامنے آگئی ،75 فیصد صہیونی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:31:18 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:31:18 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:31:18 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:31:21 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:31:21 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:30:31 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:30:31 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 14:30:31 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 13:54:54 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 13:52:28 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 13:52:28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

صہیونی انتہاء پسندوں کی فلسطینیوں کیخلاف دشمنی کھل کر سامنے آگئی ،75 فیصد صہیونی فلسطینیوں کے قتل کے حامی نکلے

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء) اسرائیل میں حال ہی میں رائے عامہ کے دو جائزوں میں صہیونی انتہا پسندوں کی فلسطینیوں کیخلاف دشمنی کھل کرسامنے آگئی ہے جن کی بڑی تعداد نے بیگناہ فلسطینیوں کو ظالمانہ طریقے سے شہید کرنے کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 2 نے ایک سروے کرایا جس میں شرکت کرنیوالے 75 فیصد یہودی رائے دہندگان نے فلسطینیوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔

24 فی صد نے اس باب میں کوئی جواب نہیں دیا جبکہ صرف ایک فیصد یہودیوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہو رہاہے کہ صہیونیوں کے دلوں میں فلسطینیوں سے کس درجے کی نفرت پائی جاتی ہے۔سروے جائزے میں جب فلسطینیوں پر حملے کرنیوالے یہودیوں کی عدالت میں پیشی کے بارے میں پوچھا گیا تو 55 فی صد کا کہنا تھا یہودیوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی ان پر فلسطینیوں کے قتل کے الزام میں مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔

جبکہ39 فیصد نے اس کی حمایت کی اور 6 فیصد نے مخالفت کی۔ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ یہودی اآباد کار فلسطینی مزاحمت کاروں پر جوابی حملے کیوں کرتے ہیں تو 57 فیصد کا کہنا تھا کہ یہودیوں کو اپنی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جانوں کے دفاع کیلئے فلسطینیون پر حملے کرتے ہیں۔ 29 فیصد کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پرحملوں کا مقصد انہیں قتل کرنا ہے۔

تل ابیب میں قائم یونیورسٹی کے زیراہتمام کئے گئے سروے میں حصہ لینے والے بیشتر یہودیوں نے فلسطینیوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی حمایت کی۔ 53 فیصد یہودیوں کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو چاہے گرفتار ہی کیوں نہ ہوجائیں انہیں زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ صفر اعشایہ 44 یہودیوں نے اس کی مخالفت کی۔ 80 فیصد یہودیوں نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے مکانات کی مسماری کی حمایت کی۔

09/11/2015 - 14:30:31 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان