علامہ اقبال کا 138 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منایا گیا‘ملک بھر میں تقریبات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:50:00 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:48:19 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:48:19 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:48:19 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:46:48 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:46:48 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:46:48 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:42:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:42:55 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:29:53 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:23:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

علامہ اقبال کا 138 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منایا گیا‘ملک بھر میں تقریبات ‘ مساجد میں خصوصی دعائیں

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء) شاعر مشرق علامہ اقبال کا 138 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منایا گیا‘ملک بھر میں یوم اقبال کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد ‘ مساجد میں خصوصی دعائیں کی گئیں ‘لاہورمیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے مزار پر پنجاب رینجرز اور پاکستان بحریہ کے گارڈز نے سلامی دی ہے‘مزار اقبال پر گارڈ تبدیلی کی تقریب‘پاک بحریہ کے چاک و چوبند دستے نے مزار پر سیکورٹی کے فرائض سنبھال لئے‘سیکیورٹی کے سخت انتظامات ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی قوم شاعر مشرق علامہ اقبال کا 138 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منایا ۔اس حوالے سے ملک بھر میں یوم اقبال کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور مساجد میں خصوصی دعائیں کی گئیں ۔پاک بحریہ کے چاک و چوبند دستے نے مزار پر سیکورٹی کے فرائض سنبھال لئے۔ سٹیشن کمانڈر نیوی لاہور کموڈور ایس ایم شہزاد تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

کموڈور ایس ایم شہزاد نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔کموڈور ایس ایم شہزاد نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کئے۔ اس سے پہلے پاکستان رینجرز کا دستہ سیکورٹی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ ڈی جی رینجرز نے بھی مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔

9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں آنکھ کھولنے والے علامہ محمد اقبال نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہور کا رخ کیا۔ 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے

اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔ علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کر دی بعد ازاں بعد وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ 1934 کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے رکن بنے تاہم طبیعت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ قیام پاکستان سے 9 برس قبل 21 اپریل 1938 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے مزار پر پنجاب رینجرز کی جانب سے سلامی دی گئی ہے اور گارڈ کے فرائض پاکستان بحریہ کے کیڈٹس کو سونپے گئے ہیں۔ گارڈ تبدیلی کے مہمان خصوصی سٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور ایس ایم شہزاد تھے۔ سٹیشن کمانڈر لاہور کی جانب سے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جب کہ پاک بحریہ کے کیڈٹس کی جانب سے سلامی پیش کی گئی۔

اقبال ڈے کے موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد بھی فاتح خوانی کے لئے موجود تھی جب کہ اس موقع پر طلبہ و طالبات کی جانب سے اقبال کی مشہور زمانہ نظم لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری بھی گائی گئی۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری زندہ شاعری ہے، جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ اقبال کی شاعری نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور ہر دور میں اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، ایک مربوط فکر کا نام ہے۔ اور وہ فکر تھی قرآن اور سیرت نبوی ۔ اقبال کے فلسفہ حیات کو اگر ایک لفظ کا پہناوا دیں تو وہ بنتا ہے خودی۔ اقبال نے معاشرے کو مثبت رخ پر سوچنے کی فکر دی۔ قوم کو آزادی کا پیغام دیا۔ اقبال کی تعلیمات و افکار کی روشنی میں پرکھیں، تو عہدِ حاضر میں شاید اقبال کا خواب ٹوٹ کر بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ علامہ اقبال نے امت کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ جو کسی خاص وقت کے لیے نا تھی، بلکہ آفاقی تھی۔ نا صرف موجودہ دور بلکہ آنے والے وقت میں ان کے افکار پر عمل کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس ہو گی۔

09/11/2015 - 12:46:48 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان