پاکستان میں امن تب ہوگا جب ملک آئین و قانون کے مطابق چلے گا،پاکستان پر عالمی طاقتوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/11/2015 - 23:45:11 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 23:45:11 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 23:45:11 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 23:23:44 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:44:54 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:27:37 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:27:37 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:27:37 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:09:43 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 22:09:43 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 21:59:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پاکستان میں امن تب ہوگا جب ملک آئین و قانون کے مطابق چلے گا،پاکستان پر عالمی طاقتوں کی ترجیحات مسلط ہورہی ہیں اس لئے ہمیں اپنے ملک کو بین الاقوامی دباوٴ سے نکالنا ہوگا، بند کمروں کے غلط فیصلے قبائلیوں پر مسلط کرنے کے خلاف ہیں،تصادم کی بنیادپرکوئی ادارہ اطمینان سے ملک کی خدمت نہیں کرسکے گا،جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مفتی محمود (مرحوم) کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8نومبر۔2015ء)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں امن تب ہوگا جب ملک آئین و قانون کے مطابق چلے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پر عالمی طاقتوں کی ترجیحات مسلط ہورہی ہیں اس لئے ہمیں اپنے ملک کو بین الاقوامی دباوٴ سے نکالنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد پشاور میں جمعیت علماء اسلام(ف) کے بانی امیر مفتی محمود (مرحوم) کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ملک میں امن تب ہوگا جب آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے جب کہ بظاہر لگتا ہے کہ ملک میں عالمی طاقتوں کی ترجیحات مسلط ہورہی ہیں اور ملک کو بین الاقوامی دباوٴ سے نکالنے کے لئے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے غلط فیصلے قبائلیوں پر مسلط کرنے کے خلاف ہیں، اگر حکومت قبائلیوں کو صوبوں میں ضم کرنا چاہتی ہے تو کھل کر بات کرے ہم کسی تجویز کی مخالفت نہیں کرتے لیکن کسی قوم اور برادری کے حق پر جبر نہیں کرسکتے اس لئے پاکستان اور قبائل کے مستقبل کا سوچیں اور فاٹا میں تبدیلیاں لائیں، ہم کسی سنجیدہ موضوع کو رد نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ تصادم کی بنیادپرکوئی ادارہ اطمینان سے ملک کی خدمت نہیں کرسکے گا، تصادم کے ذریعے مسائل حل نہیں ہونگے مزید بگڑیں گے، ملک میں امن تب ہوگاجب آئین اورقانون کے مطابق چلیں گے، تقسیم ہندکے بعد ہندوستان کو2سال میں مستقل آئین دیاگیا لیکن پاکستان میں 23سال بعد پہلا مستقل آئین دیا گیا جس کے بعد آمروں نے آئین کو موم کی ناک بنائے رکھا لیکن جمہوری حکومت نے پورے آئین پر نظرثانی کی اور صوبوں کو 18ویں ترمیم میں اختیارات دیئے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفتی محمود کے قافلے میں شامل ساتھیوں پرفخرہے،مفتی محمود نے اپنے نظریات اور عقائد پر سمجھوتا نہیں کیا، ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، جمیعت کاہرکارکن مفتی محمود کے نظریات کو لوگوں تک پہنچاتارہیگا۔انہوں نے کہاکہ مولانا مفتی محمود(مرحوم) نے 73کے آئین سے پہلے ہی ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی دستور کے حوالہ سے پیغام دیا تھا کہ اس ملک کو دین اسلام کے عین مطابق ایک آئین چاہئے ان کی اس فکر کو کارکنوں نے ایک تحریک سمجھ کر آگے بڑھایا اور اس طرح ملکی آئین میں اسلامی دفعات شامل کی گئیں انہوں نے کہا کہ مفتی محمود واحد ایسی شخصیت تھے جنہوں نے حقائق کو چھپانے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے مدبرانہ فیصلوں کے ذریعے دین اسلام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے رہنما و وفاقی وزیرہاؤسنگ اکرم خان درانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے ہماری پختون روایات پر خودکش حملہ کرکے پشتون معاشرے کے رسم و رواج کو بری طرح تباہ کردیا ہے جس سے پختون قوم کو بار بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے راکین اسمبلی کو گالیاں سکھائی ہیں اور انہیں بتایا ہے کہ وہ کس طرح مخالف وزراء و اراکین اسمبلی کو گالیاں دے سکتے ہیں ۔

چیئر مین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ قومی اتفاق رائے سے بنائے گئے 1973کے ملکی آئین کو ماضی کے حکمرانوں نے اپنے پیروں تلے بڑی بے دردی سے روندا ہے اور اپنے دور اقتدار کو طول دینے کیلئے آئین کو برای طرح مسخ کیا اس کے ساتھ ساتھ دور آمریت میں بھی جمہوری اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے کیلئے بھر پور کوششیں کی گئی تھیں آئیے آج ہم سب مل کر اپنے اختلافات کو بھلا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/11/2015 - 22:27:37 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان