سراج الحق اتحادی ہونے کیوجہ سے فریق ہیں ،میرے اور عمران کے درمیان ثالث کا کردار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:31:15 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:31:15 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:31:15 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:30:08 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:30:08 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:30:08 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:25:03 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:25:03 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:25:03 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:23:55 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 17:23:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

سراج الحق اتحادی ہونے کیوجہ سے فریق ہیں ،میرے اور عمران کے درمیان ثالث کا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن

ایم ایم اے کی بحالی کی کوئی تجویز نہیں آئی ،اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ کو ترجیح نہ دی گئی سب سے پہلے احتجاج کروں گا،سربراہ جے یوآئی

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سراج الحق خیبر پختوانخواہ حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے فریق ہیں وہ میرے اور عمران خان کے درمیان ثالث کا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں، عمران خان کے بارے میں میری شدت نظریاتی ہے میں کسی ذات کا مخالف نہیں ہوں،ایم ایم اے کی بحالی کی کوئی تجویز آئی ہے اور نہ اس بارے کوئی بات ہوئی ،اگر حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ کو ترجیح نہ دی تو میں احتجاج کرنے والوں میں سب سے پہلے سامنے آؤں گا ۔

ایک انٹر ویو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ویزا نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے چیئر مسلسل خالی رہتی ہے ۔ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے کشمیر ایک تحریک کا نام ہے اور ہم نے اس کو بنیاد بنایا تھاکہ خارجہ پالیسی کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پالیسی نہیں بناتے بلکہ حکومت پالیسی بناتی ہے لیکن اب حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ اس کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی لائی جائے لیکن اس طر ف ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔

انہوں نے فاٹاکو الگ صوبہ بنانے یا خیبر پختوانخواہ میں ضم کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جے یو آئی(ف) اس تجویز کی علمبردار ہے او رنہ اسکی مخالفت کرتی ہے ۔اس سے پہلے بھی یہ تجویز آ چکی ہے لیکن قبائلیوں نے کہا ہے کہ پہلے انہیں امن دیا جائے اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم پر کوئی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے ۔ فاٹا کے معاملے میں اختلافات کی گنجائش نہیں اور جو بھی معاملہ ہو اسے اتفاق رائے سے طے پانا چاہیے اور

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/11/2015 - 17:30:08 :وقت اشاعت