دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواجہ سراؤں کو سرکاری محکموں میں ملازمتیں ملنا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:38:19 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:38:19 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:36:42 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:36:42 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:36:42 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:35:07 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:35:07 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:35:07 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:32:46 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:32:46 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:32:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

راولپنڈی

دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواجہ سراؤں کو سرکاری محکموں میں ملازمتیں ملنا شروع ہو گئیں

راولپنڈی نیشنل کالج آف آرٹس میں خواجہ سر آفس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہا ہے ، ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء) بھارت میں خواجہ سراء کی سب انسپکٹر کے عہدے پر تعیناتی اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواجہ سراؤں کو سرکاری محکموں میں نوکری کے مواقع حاصل ہونا شروع ہو گئے ۔ راولپنڈی کے نیشنل کالج آف آرٹس کے مختلف شعبوں میں خواجہ سراؤں کو بھرتی کر لیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں خواجہ سراؤں کو نوکری کے محدود مواقع میسر ہوئے ہیں یا وہ اپنی زندگی گزارنے کے لئے گلی محلوں کا سہارا لیتے ہیں نجی اور سرکاری محکمے ان کو باعزت روزگار دینے سے کتراتے ہیں تاہم حال ہی میں ایک اہم تبدیلی آئی کہ راولپنڈی نیشنل کالج آف آرٹس نے اس حوالے سے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں میں متعدد خواجہ سراؤں کو ملازمتیں فراہم کی ہیں ۔

نیشنل کالج آف آرٹس کے ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ اس سے پہلے یہ سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا کالج طلباء اور اساتذہ خواجہ سراؤں کی بھرتی کے حوالے سے یہ فیصلہ قبول کریں گے یا نہیں لیکن طلباء اور اساتذہ نے اس فیصلے کو قبول کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد خواجہ سراؤں کو پرسکون اور محفوظ ماحول میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے دیگر اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اختیارات کے تحت خواجہ سراؤں کی بھرتی کاعمل شروع کریں جاب کے لئے خواجہ سراؤں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بھی دیگر انسانوں کی طرح اپنی زندگی کو احسن طریقے سے گزار سکیں ۔

ادھر نیشنل کالج آف آرٹس میں کام کرنے والے خواجہ سراء شرمیلی جو کہ کینٹین پر خانساماں کا کام کر رہی ہے اور وہ خوش ہے ۔ فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں آفس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کرنے والی وینا کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار ماہ سے کام کر رہی ہے اس جاب کے ملنے کے بعد وہ اس قابل ہو گئی ہے کہ وہ ڈانسنگ کا کام چھوڑ دے گی وہ اپنی جاب سے خوش اور مطمئن ہے یہاں کام شروع کرنے کے بعد مجھے دیگر اداروں سے بھی ملازمت کی پیش کش آ رہی ہیں ۔ڈاکٹر تارڑ کے مطابق سپریم کورٹ نے 2012 ء کے اپنے فیصلے میں اس اقدام کو قانونی اجازت دی ہے لہذا حکومت کو خواجہ سراؤں کی بھرتی کے لئے ایک میکنزم بنانا چاہئے ۔

08/11/2015 - 15:35:07 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان