پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان حالیہ ٹیسٹ سیریز میں امپائر کے فیصلوں پر سوالیہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار نومبر

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 08/11/2015 - 16:06:19 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 16:06:17 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 15:43:01 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:51:43 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:51:41 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:49:59 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:49:57 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:28:06 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:21:47 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:21:45 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 14:14:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان حالیہ ٹیسٹ سیریز میں امپائر کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگ گیا

شارجہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء)پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان حالیہ ٹیسٹ سیریز میں امپائرنگ خصوصاً ٹی وی امپائرز کے فیصلے موضوع بحث بنے رہے اور یہ سوال بار بار کیا جاتا رہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتنی اہم سیریز نامکمل ٹیکنالوجی کے ساتھ کیوں کھیلی؟اس سیریز میں سنیکو میٹر اور ہاٹ سپاٹ ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔ ان کے نہ ہونے سے متعدد فیصلوں پر سوالیہ نشان لگ گیا اور اس کا زیادہ نقصان پاکستانی ٹیم کو ہی پہنچا۔

ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں مصباح الحق کو امپائر نے وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آوٴٹ نہیں دیا لیکن ریویو پر ٹی وی امپائر روی نے انھیں آوٴٹ دے دیا۔ اسی طرح دوسرے ٹیسٹ میں یونس خان نے سلپ میں جانی بیرسٹو کا کیچ لیا جسے ٹی وی امپائر روی نے آوٴٹ نہیں دیا۔سنیکو میٹر اور ہاٹ سپاٹ ایک مہنگا نسخہ ہے جس کا یومیہ خرچ ہزاروں پاوٴنڈز ہے، ظاہر ہے کہ ہر کرکٹ بورڈ اس کا متحمل نہیں کرسکتا۔

چونکہ آئی سی سی بین الاقوامی کرکٹ کا نگراں ادارہ ہے لہذا اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرے کہ اہم سیریز میں ڈی آر ایس مکمل ٹیکنالوجی کے ساتھ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/11/2015 - 14:49:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان