وفاقی بجٹ میں زراعت کے شعبے کیلئے مزید مراعات کا اعلان کیا جائے ، مزدور کی کم سے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:12:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:12:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:11:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:11:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:05:32 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:04:00 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:04:00 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:01:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:59:45 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:54:15 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:54:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

وفاقی بجٹ میں زراعت کے شعبے کیلئے مزید مراعات کا اعلان کیا جائے ، مزدور کی کم سے کم اجرت 15 ہزار روپے کی جائے چاول کے کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کیلئے ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جائے ، بجٹ میں گھی ، خوردنی تیل ، سویابین آئل و دیگر غذائی اشیاء پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کردیا گیا ، کرپشن کے خلاف بھی آپریشن ضرب عضب شروع کیا جائے ، سولر ٹیوب ویلوں کیلئے بلاسود قرضوں کا اعلان احسن اقدام ہے

حکومتی و اپوزیشن ارکان عمران ظفر لغاری ، کرن حیدر ، رفیق جمالی،ساجدہ بیگم اور دیگر کا بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال , حالیہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ، جمشید دستی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) حکومتی و اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے شعبے کیلئے مزید مراعات کا اعلان کیا جائے ، سرکاری ملازمین کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار روپے کی جائے جبکہ چاول کے کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کیلئے ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جائے ۔ بجٹ میں گھی ، خوردنی تیل ، سویابین آئل و دیگر غذائی اشیاء پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کردیا گیا ۔

کرپشن کے خلاف بھی آپریشن ضرب عضب شروع کیا جائے ، سولر ٹیوب ویلوں کیلئے بلاسود قرضوں کا اعلان احسن اقدام ہے ۔ آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ۔پیپلز پارٹی کے عمران ظفر لغاری نے مالی سال 2015-16 کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے زر مبادلہ کے ذخائر غیر ملکی قرضے لے کر اور قومی اثاثے فروخت کر کے بڑھائے ہیں، اگر معیشت کو بہتر کرنا ہے تو ٹیکسوں کے دائرہ کار کو بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف شروع ہوا تھا لیکن اب اس کا رخ تبدیل ہو رہا ہے، اگر سیکیورٹی ادارے سیاسی بات کریں گے تو انہیں سیاسی جواب ملے گا۔ مسلم لیگ(ن) کی کرن حیدر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ مکمل طور پر غریبوں کا بجٹ ہے۔ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی منزہ حسن نے کہا کہ بجٹ بناتے ہوئے نہ تو عوام کو اعتماد میں لیا جاتا اور نہ ہی میڈیا پر بحث کرائی جاتی ہے، عوام کو بجٹ آنے کے بعد روٹی کے لالے پڑے گئے ہیں، گھی، خوردنی تیل، سویا بین آئل و دیگر اشیاء پر ٹیکس 5فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا ہے، فنانس بل میں 8 لاکھ 56ہزار ٹیکس دہندگان کا تو ذکر ہے جبکہ6ٹیکس نادہندگان کا کوئی ذکر نہیں۔

(ن) لیگ کے ناصر بوسال نے کہا کہ تمام عالمی ادارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان معاشی اعتبار سے بہتری کی جانب جانا شروع ہو گیا ہے۔ چاول کے کاشتکاروں کو نقصان سے بچانے کیلئے ایران کے ساتھ تجارت میں بہتری لائی جائے جبکہ کم معیار والے چاول کی چین میں زیادہ مانگ ہے، اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں زرعی پالیسیاں ختم ہو جاتی ہیں حالانکہ حکومت زرعی کو بہتر کر کے معیشت کو مستحکم کر سکتی ہے، ہمیشہ زرعی پالیسیاں اسی وقت لائی جاتی ہیں جب کاشتکار کے ہاتھوں سے نکل کر مڈل مین یا ایکسپورٹر کے پاس چلی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اوگرا اور ای او بی کا 125ارب روپے واپس لانے میں کامیاب ہوتے تو کسی کو یہاں کرپشن کی جرات نہ ہوتی۔ حکومت کو چاہیے کہ کرپشن کے خلاف بھی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 23:04:00 :وقت اشاعت