کراچی چیمبر اورآئی پی آر کے زیراہتمام وفاقی و صوبائی بجٹ پر بحث
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 16/06/2015 - 00:07:33 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:12:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:05:32 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:04:00 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:01:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 23:01:09 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:59:45 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:59:45 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:54:15 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:38:05
- مزید خبریں

کراچی

کراچی چیمبر اورآئی پی آر کے زیراہتمام وفاقی و صوبائی بجٹ پر بحث

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی(کے سی سی آئی) اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز کے باہمی تعاون سے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر پیر کو ہونے والی بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت اب استحکام پردی جانے والی توجہ کومعاشی ترقی پرمرکوز کردینا چاہیئے۔اس موقع پر سابق وزیرتجارت ہمایوں اختر،سابق وزیرخزانہ و ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے این ایف سی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے نیشنل فائنانس کمیشن کے جاری حالیہ مذاکراتی دور پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ تصورات کے برعکس 9ویں این ایف سی میں کئی انتہائی اہم مسائل حل طلب ہیں جن میں 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی کی تکمیل اور عمل درآمد،تقسیم کے عمل میں صوبائی حکومت کا مناسب حصہ ،نومنتخب مقامی حکومتوں کے فارمولے پر مبنی فنانسنگ،صوبائی حکومتوں کے قرضوں کے اختیارات،خاص طور وہ قرضے جوتجارتی اعتبار سے پاور سیکٹر کے منصوبے لئے لیئے جائیں،خدمات کی فراہمی بہتر بنانے،اخراجات کے معیارات کا قیام اوروفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی ٹیکس پر تجاوزات کے خاتمہ شامل ہیں۔

سابق وزیرتجارت ہمایوں اختر نے معیشت کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ مالی سال2014-15کی کارکردگی ملی جلی تھی۔انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی اہم ہے کہ حکومت معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور اس کی پالیسیاں کیا ہیں۔ملکی معیشت7برس کی نچلی سطح پر ہے،خراب انفرااسٹرکچر،سماجی خسارہ بھی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کاباعث ہے،عوام پرٹیکسوں کابوجھ لاد دیا گیاہے،باالواسطہ لیویز اور ٹیکسوں میں اضافہ کر کے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پرناقابل برداشت حد تک ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیاجاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے مجموعی مالیاتی استحکام پر توجہ مرکوز کی ہے اس ضمن میں بعض مثبت بھی ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے افراط زر کی شرح اور کرنٹ اکاوٴنٹس خسارے میں بھی بتدریج کمی آئی ہے تاہم دیگرشعبوں میں معیشت کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔ہمایوں اختر نے کہاکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اندازً2.5فیصد اضافہ ہوا ۔

زرعی شعبے کی پیدوار میں معمولی اضافہ ہوا تاہم گندم، مکئی اور گنے کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی جبکہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا نیزخدمات کے شعبے کی کارکردگی بہتر رہی۔ملک کو دو بڑی تشویش لاحق ہیں جن میں سیکیورٹی اور لوڈشیڈنگ نے اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کاباعث ہیں جبکہ نجی شعبے کو قرضوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔ان حقائق کے باعث نجی شعبے کی سرمایہ کاری ملک کی مجموعی پیدوارمیں9.7فیصد تک کم ہو گئی ہے جو شاید سب سے کم سطح ہے۔

عوامی سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 3.4فیصد ہے اورمجموعی سرمایہ کاری ، جی ڈی پی شرح14.7فیصد کی معمولی سطح پر ہے۔معیشت کم ترقی کے جال میں پھنسی نظر آتی ہے اورنئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی خاص طور پر پریشان کن ہے۔انھوں نے کہا کہ ایف بی آر ایک بار پھرٹیکس ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا ور2014-15کے لیے2,691ارب کے ہدف کے مقابلے محصولات کم رہیں گی۔

ابتدائی 10 ماہ کے دوران مجموعی پیداوارکی 24فیصد شرح کے مقابلے میں ریونیومیں 12.7فیصد اضافہ ہو ا حالانکہ اس سال بلواسطہ ٹیکسوں میں اندھا دھند اضافہ کیا گیا۔ ریونیو میں کمی کے باعث پی ایس ڈی پی کے اجراء میں کٹوتی ناگزیر ہے جیسا کہ 22مئی2015کو حکومت نے بجٹ کی رقم کا 60فیصد کم جاری کیا۔پاور سیکٹر نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔2014-15میں بجلی کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا لیکن بجلی کی اصل فراہمی میں 2.3فیصد کمی واقع ہوئی۔

حکومت اس شعبے کے مسائل کے پائیدار حل میں ناکام رہی۔انہوں نے سماجی شعبے کی خراب حالت کو خطرناک قرار دیا جو شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ خواندگی کی شرح2فیصد کمی کے ساتھ 60فیصد سے کم ہو کر 58فیصد تک آگئی ہے۔امیونائزیشن6فیصد کمی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 23:01:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان