لاہور، ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی، لاکھوں روپے مالیت کا سامان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:41:52 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:38:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:34:24 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:34:24 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:32:57 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:32:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لاہور، ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی، لاکھوں روپے مالیت کا سامان جلاکر راکھ

ریسکیو عملہ کی کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد بھی پوری طرح آگ پر قابو نہ پایا جاسکا‘آتشزدگی کے باعث چار ریسکیو اہلکاراور شہری زخمی ہوگئے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) صوبائی دارالحکومت میں گلبرگ کے علاقے لبرٹی چوک میں واقع معروف ڈیپارٹمنٹل سٹور میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ نے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جلاکر راکھ کرڈالا۔ اطلاع ملنے پر آگ بجھانے کے عملہ کی کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد بھی پوری طرح آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ آتشزدگی کے باعث چار ریسکیو اہلکاراور شہری زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صبح لبرٹی مارکیٹ گول چکر کے قریب واقع معروف الفتح پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے تھوڑی دیر میں پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی خوفناکیت کے باعث ارد گرد کے پلازے بھی لپیٹ میں آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ اطلاع ملتے ہی پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 کے آگ بجھانے کا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ کئی گھنٹے مسلسل جاری رہنے والی آگ پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی۔

پلازے کے ملک شیخ عرفان اپنی قیمتی اشیاء اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے دیکھ کر غم سے نڈھال ہوگئے ۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ اٹھنے والے شعلے دور دور سے دکھائی دے رہے تھے۔ دھوئیں کے بادلوں کے باعث سانس لینا دوبھر ہوگیا۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمد امین وینس سمیت دیگر پولیس حکام بھی موقع پر پہنچ گئے۔ آگ بجھانے کی کوشش میں پلازہ کی سیلنگ لگنے سے 4ریسکیو اور4شہری زخمی ہوگئے۔

آتشزدگی کیاطلاع پاکر تاجروں کی بڑی تعداد بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف رہی۔ پلازہ میں روز مرہ زندگی کی تمام اشیاء پہلی منزل پر کراکری‘ دوسری منزل پر کھلونے اور گارمنٹس جس میں خواتین کے کپڑے بھی شامل ہیں۔ سٹور کی بالائی منزل پر ہوٹل میں آگ کو دیکھ کر خواتین اور بچوں نے شعور مچانا شروع کر دیا۔ تمام افراد خواتین اور بچوں کو امدادی ٹیموں نے پچھلے راستے سے بحفاظت باہر نکال لیا۔

دھواں اس قدر خطرناک اور زہریلا تھا کہ سانس لینا مشکل ہوگیا۔ دھوئیں کے باعث اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ دکاندار دکانوں اور پلازوں کے اردگرد تالے توڑ کر بالائی منزل پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے۔پلازے کے مالک عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ فجر کے بعد سکیورٹی گارڈ نے آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔ اس نے کہا کہ آگ سے ہونیوالا نقصان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ہر چیز نذآتش ہوچکی ہے۔ پنجاب ایمرجنسی سروسز اور دیگر امدادی ٹیموں کی کوششوں کے باجود کئی گھنٹوں تک آگ پر مکمل قابو نہ پایا جاسکا

15/06/2015 - 22:35:42 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان