قومی اسمبلی، آرمی آرڈیننس 2015ء میں 4 ماہ کی توسیع،ایم کیوایم کا واک آؤٹ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:39:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:38:05 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:35:42 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:34:24 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:34:24 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:32:57 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:32:57 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:31:15 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:31:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

قومی اسمبلی، آرمی آرڈیننس 2015ء میں 4 ماہ کی توسیع،ایم کیوایم کا واک آؤٹ

وزیر دفاع نے ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد ایوان میں پیش کی، ایم کیو ایم کی شدید مخالفت، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کا موقف ماننے سے انکار ، ایوان نے قرارداد منظور کرلی , حکومت کو قرارداد بزنس ایڈوائزری کونسل میں لانا چاہیے تھی، اعجازجاکھرانی،حکومت آرڈیننس ایوان میں نہیں لا سکتی،شیریں مزاری، یہ آئینی ضرورت ہے،خواجہ آصف , وزیر دفاع کے بیان پر ایم کیو ایم کی نعرے بازی کی، ایوان مچھلیمنڈی بن گیا، ایوان میں سب کی عزت مشترکہ ہے،رشید گوڈیل،حکومت ضروری بزنس لاسکتی ہے،سپیکر کی رولنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) ایم کیو ایم کے واک آؤٹ کے باوجود قومی اسمبلی نے آرمی آرڈیننس 2015ء میں مزید چار ماہ کی توسیع کی منظوری دے دی ہے ۔ سوموار کے روز قومی اسمبلی نے ایم کیو ایم کے شدید احتجاج اور نعرے بازی کے دوران پاکستان آرمی آرڈیننس 2015ء میں مزید چار ماہ کیلئے منظور کرلیا ہے۔ حکومت کی طرف سے وزیر دفاع نے ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کی منظوری کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی جس کی ایم کیو ایم نے شدید مخالفت کی اور کہا کہ حکومت بجٹ بحث کے دوران یہ آرڈیننس منظور نہیں کراسکتی تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ نے ان کا موقف ماننے سے انکار کردیا اور ایوان نے قرارداد منظور کرلی ۔

پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ حکومت ایوان میں قرارداد لانے سے قبل بزنس ایڈوائزری کونسل میں لانا چاہیے تھا تحریک انصاف کی شریں مزاری نے کہا کہ حکومت نے یہ آرڈیننس ایوان میں نہیں لاسکتی ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ آئینی ضرورت ہے آرڈیننس کسی ضابطہ پر لائیں گے اور بعد میں بل آئے گا یہ آئینی ضرورت تھی جس کو پورا کرنے کے لئے قرارداد لانی پڑی ہے وزیر دفاع نے کہا کہ ایم کیو ایم کو خطرہ ہے کہ کہیں اس آرڈیننس کے تحت ان کے گریبان کو نہ پکڑا جائے جس پر ایم کیو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 22:34:24 :وقت اشاعت