موجودہ بجٹ امیروں کا ہے ، غریبوں کا نہیں ، تنخواہ دار طبقہ کیلئے کچھ نہیں رکھا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:16:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:16:55 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:16:41 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:15:13 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:15:13 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:11:12 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:06:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:06:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:03:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:03:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:59:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

موجودہ بجٹ امیروں کا ہے ، غریبوں کا نہیں ، تنخواہ دار طبقہ کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا ، بجٹ صرف 2 فیصد لوگوں کا ہے ، 98 فیصد لوگوں کا وجود کہیں نظر نہیں آتا، غریب لوگ فاقوں کی وجہ سے اپنے بچے مار رہے ہیں ، عوام میں مایوسی پیدا ہورہی ہے ، پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر منصوبوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، فاٹا کو ٹیکس فری قرار دیا جائے

ایوان بالا کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن ارکان کا اظہار خیال، وفاقی بجٹ متوازی اور بہترہے،حکومتی ارکان

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء ) سینیٹ میں حکومتی ارکان نے موجودہ بجٹ کو متوازی اور بہتر قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن ارکان نے ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موجودہ بجٹ امیروں کا ہے ، غریبوں کا نہیں ، اور تنخواہ دار طبقہ کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا ، بجٹ صرف 2 فیصد لوگوں کا ہے ، 98 فیصد لوگوں کا وجود کہیں نظر نہیں آتا، غریب لوگ فاقوں کی وجہ سے اپنے بچے مار رہے ہیں ، عوام میں مایوسی پیدا ہورہی ہے۔

وہ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں بجٹ بحث میں حصہ لے رہے تھے ۔ ہدایت اﷲ خان نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں فاٹا کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ، لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں ، قیام پاکستان کے وقت 20 سے 25 ہزار قبائلیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن بدقسمتی سے 67 سال گزرنے کے باوجود فاٹا کی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کرے جب تک فاٹا کے عوام ترقی نہیں کریں گے ، پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر منصوبوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، جب تک قبائلی عوام کو ریلیف نہیں ملے گا ۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 18 ارب روپے مختص کیے گئے اس سے کوئی ترقی نہیں ہوگی، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو 100 ارب پر لایا جائے ، فاٹا میں ایمرجنسی نافذ کرکے تعلیم کیلئے 20 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا جائے ، فاٹا کو بھی ٹیکس فری قرار دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے کے پی کے میں یا پھر گلگت بلتستان کی طرح کونسل بنائی جائے تاکہ قبائلی عوام اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔

بی این پی کی نسیمہ احسان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے کیلئے بلند و بانگ دعوے کئے ہیں لیکن دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں بجٹ میں اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جٹ کے اعداد و شمار پیش کرنا قوم کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، اگلے بجٹ میں 6فیصد خسارہ دیکھا یاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ بجٹ کے حوالے سے ایسے بناتے ہیں جیسے حاتم طائی کی فقیر کو لات مار دی ہو۔

انہوں نے میڈیا سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے مسائل اجاگر کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہوں ن ے کہا کہ پنجاب کی حیثیت چوہدری کی طرح ہیں، باقی تین صوبے اس کے مزارع ہوں پاکستان میں جو منصوبہ شروع کئے جائیں اس میں پنجاب کو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 22:11:12 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان