چیئر مین سینٹ نے فرحت اﷲ بابر کی طرف سے ڈی جی رینجرز کے بیان پر تحریک التواء زیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:15:13 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:11:12 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:06:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:06:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:03:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 22:03:44 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:59:22 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:54:51 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:52:02 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:49:43 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:45:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

چیئر مین سینٹ نے فرحت اﷲ بابر کی طرف سے ڈی جی رینجرز کے بیان پر تحریک التواء زیر بحث لانے کی استدعا مسترد کردی

رینجرز نے اختیارا ت کا بے دریغ استعمال کیا ٗ لوگ لاپتہ ہوئے ٗ مارورائے عدالت قتل ہوئے ٗ تحریک التواء بحث کیلئے منظور کی جائے ٗ فرحت اﷲ بار , امن وامان صوبائی معاملہ ہے ٗڈی جی رینجرز کے بیان کی اہمیت کے پیش نظر اسے نکتہ اعتراض کی صورت میں بدھ کو ایوان میں پیش کیاجائے ٗ رضا ربانی , آئین کے تحت رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے ٗجب تک صوبائی حکومت کو ضرورت ہوگی رینجرز خدمات سرانجام دیتی رہیں گی ٗ انجینئر بلیغ الرحمن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء)چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی پیپلز پارٹی کے رکن فرحت اﷲ بابر کی طرف سے ڈی جی رینجرز کے بیان پر تحریک التواء زیر بحث لانے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ امن وامان صوبائی معاملہ ہے تاہم ڈی جی رینجرز کے بیان کی اہمیت کے پیش نظر اسے نکتہ اعتراض کی صورت میں بدھ کو ایوان میں پیش کیاجائے ۔

پیر کو پیپلز پارٹی کے رکن سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے ڈی جی رینجرز کی طرف سے کراچی میں مختلف جرائم کے ذریعے 230ارب روپے غیر قانونی طورپر وصول کئے جانے سمیت دیگر امور کے بارے میں ان کے بیان کو زیر غور لانے کیلئے تحریک التواء بحث کیلئے منظور کر نے کی درخواست کی انہوں نے کہا کہ رینجرز کو اکتوبر 2013میں چار ماہ کیلئے کراچی لایا گیا تاکہ وہ جرائم کی بیخ کنی کر سکیں بعد ازاں انہیں تحفظ پاکستان ایکٹ کے ذریعے متعدد اختیارات دے دیئے گئے جن میں کسی شخص کو نوے روز تک زیر حراست رکھنے ٗمزاحمت پر گولے مارنے اور تلاشی جیسے اختیارات شامل تھے انہوں نے کہاکہ چار ماہ کے عرصے میں بار بار توسیع کی گئی اور اب دو سال ہونے کو ہیں رینجرز کراچی میں موجود ہیں اس دور ان اختیارات کا بے دریغ استعمال بھی کیا گیالوگ لاپتہ بھی ہوئے ماورائے عدالت قتل بھی ہوئے مومن آباد سٹیشن پر چڑھائی کر کے کانسٹیبل کو اغواء کیا گیا انہوں نے کہا کہ آج یہ بات کی جارہی ہے کہ مختلف جرائم کی مدد میں 230ارب روپے سالانہ وصول کئے جارہے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس کے پیچھے با اثر سیاسی لوگ ہیں تاہم ان کا نام نہیں بتایا گیا دو سال کے بعد ایسی باتیں کر نے کا مطلب ہے کہ رینجرز ناکام ہوگئی ہے اور وہ بر ملا اپنی ناکام کا اعتراف کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ دفاعی مقاصد کیلئے زمینیں حاصل کر کے ان پرہاؤسنگ سوسائٹیاں ٗ پلازے اور گالف کورس قائم کئے گئے یہ قواعد کے خلاف ہے اب ڈی جی رینجرز کی طرف سے یہ بیان جرائم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 22:03:44 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان