2002ء سے التواء کا شکار مقدمات کو 30 جون تک نمٹا دیا جائے گا، وسل بلوور پروٹیکشن ایکٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:52:02 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:49:43 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:45:51 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:44:20 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:44:20 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:43:08 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:41:19 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:39:19 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:22:04 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:16:22 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:11:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

2002ء سے التواء کا شکار مقدمات کو 30 جون تک نمٹا دیا جائے گا، وسل بلوور پروٹیکشن ایکٹ جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، نیب نے 262 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں، لوگوں کے حکومتی معاملات سے متعلق معلومات کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہئے اور قانون کے مطابق سر کاری ریکارڈ، دستاویزات اور پالیسی سازی کیلئے استعمال ہونے والے مواد تک رسائی ملنی چاہئے تاکہ حکومت کی پالیسی سازی کے فیصلوں پر بہتر نظر رکھی جا سکے

نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کا اطلاعات کی آزادی اور ہر صورت دفاع کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 15 جون (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ 2002ء سے التواء کا شکار مقدمات کو 30 جون تک نمٹا دیا جائے گا، وسل بلوور پروٹیکشن ایکٹ جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، نیب نے 262 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں، نیب ”سے نو ٹو کرپشن“ سلوگن کے ذریعہ پوری قوم کو بدعنوانی کے خاتمہ کی مہم میں شامل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں اطلاعات کی آزادی اور ہر صورت دفاع کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب سے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور ملک میں جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کی آزادی اور ہر صورت دفاع کا مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا ہے کیونکہ معلومات رکھنے والے شخص نظم و نسق کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے حکومتی معاملات سے متعلق معلومات کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہئے، لوگوں کو قانون کے مطابق سر کاری ریکارڈ، دستاویزات اور پالیسی سازی کیلئے استعمال ہونے والے مواد تک رسائی ملنی چاہئے تاکہ حکومت کی پالیسی سازی کے فیصلوں پر بہتر نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب میں اضافہ کیلئے اطلاعات تک رسائی کے حق پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے تاکہ بدعنوانی کے مواقع میں کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر معلومات تک رسائی کو بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے، پاکستان میں 2002ء میں وفاقی سطح پر اطلاعات کی آزادی کا آرڈیننس نافذ کیا گیا، اس قانون کے تحت شہری وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں، بورڈز ، کونسلوں، عدالتوں اور ٹریبونلز سمیت وفاقی حکومت سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں تاہم لوگوں میں آگاہی کی کمی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد بہت کم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات کی آزادی کا قانون کرپشن کے مقدمات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، قانون میں موثر تبدیلیوں اور اس پر موثر طریقہ سے عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور ان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا سکے، اطلاعات تک آزادی کے حق کے قانون پر کامیاب عمل درآمد کیلئے آزادانہ ادارہ قائم کیا جانا چاہئے جبکہ شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے کرپشن کے خاتمہ کیلئے وسل بلوور پروٹیکشن ایکٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 21:43:08 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان