سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حکومت شفاف اور منصفافہ ٹیکس اسٹرکچر لاگو کرے ،ارشد سعید ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 21:04:58 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 20:44:22 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 20:32:46 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:30:35 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:34:32 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:33:32 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:33:32 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:33:31 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:32:03 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:32:02 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 16:24:52
- مزید خبریں

کراچی

سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حکومت شفاف اور منصفافہ ٹیکس اسٹرکچر لاگو کرے ،ارشد سعید حسین

ٹیکس اسٹرکچر نئے ا ور پرانے سرمایہ کاروں پر یکساں اور شفافیت اور سہولت کا حامل ہونا چاہئے،صدر امریکن بزنس کونسل

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء)مریکن بزنس کونسل پاکستان کے صدر ارشد سعید حسین کہا ہے کہ سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ شفاف اور منصفافہ ٹیکس اسٹرکچر کو لاگو کرے جو نئے ا ور پرانے سرمایہ کاروں پر یکساں عائد ہو اور شفافیت اور سہولت کا حامل ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 42 سالہ تاریخ میں کم ترین6 فیصد کی سطح پرہے جبکہ حکومت معاشی ترقی کی رفتار بڑھانا چاہتی ہے تاہم حکومت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 65 کے تحت فوائد سے کاروباری اداروں کو دور رکھا ہے جس سے مایوسی ہوئی ہے۔

امریکن بزنس کونسل پاکستان کے صدر ارشد سعید حسین نے کہا کہ سپر ٹیکس کے نفاذ سے کاروباری اداروں کے لیے کیش مینجمنٹ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اس کے ساتھ ہی ٹیکس ادا کرنے والوں پر ٹیکس بوجھ میں اضافے کا بھی باعث بنے گا۔ اسی طرح لسٹڈ کمپنیاں جو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے چھ ماہ کے اندر ڈیویڈنڈ دینے میں ناکام رہتی ہیں اور ان کا سرمایہ پیڈ اپ کیپیٹل کے 100 فیصد سے زائد ہو، ان پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس تمام غیر تقسیم شدہ سرمائے پر عائد ہوگا۔

اس اقدام سے ان پر دوہرا ٹیکس لاگو ہوگا کیونکہ یہ ٹیکس اس سرمائے پر ہوگا جس پر پہلے ہی ٹیکس دیا جاچکا ہے۔اسی طرح سرمایہ کی تقسیم ڈیویڈنڈ کی صورت میں ہونے سے ان کمپنیوں کی ترقی متاثر ہوگی کیونکہ کمپنیاں اس قابل نہیں رہیں گی کہ وہ توسیع منصوبوں پر اخراجات کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس ریٹ میں ایک فیصد کی کمی مالی سال 2018 ء تک ٹیکس ریٹ 30 فیصد تک کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس وقت کارپوریٹ ٹیکس پاکستان میں 32 فیصد(بینکوں پر35 فیصد) ہے۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/06/2015 - 21:04:58 :وقت اشاعت