نیب کی قانون نافذکرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کے ہمراہ لائنز ایریا ری سیٹل منٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:31:52 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:30:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:30:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:30:30 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:26:23 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:24:59 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:24:59 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:19:37 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:17:33 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:17:33 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 19:17:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

نیب کی قانون نافذکرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کے ہمراہ لائنز ایریا ری سیٹل منٹ پراجیکٹ کے دفتر پرکارروائی ،5افسران کو حراست میں لے لیا

گرفتار افسران کی نشاندہی پرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر کارروائی ،ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا گیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء)قومی احتساب بیورو(نیب) کی قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہمراہ لائنز ایریا ریسیٹلمینٹ پروجیکٹ کے دفتر پرکارروائی کرکے پروجیکٹ ڈائریکٹرسمیت 5افسران کو حراست میں لے لیا ہے۔بعدازاں گرفتار افسران کی نشاندہی پرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر کارروائی کی ۔کارروائی کے دوران قانون نافذکرنے والے ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفترسے ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیاہے۔

نیب ذرائع کے مطابق پروجیکٹ دفترپرچھاپہ پیرکو بڑے پیمانے پر چائناکٹنگ کے زریعے پلاٹوں کی فروخت اورریکارڈ میں جعل سازی کی اطلاعات پر مارا گیا۔ نیب حکام نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی معاونت سے پروجیکٹ آفس کو گھیرے میں لے کر ریکارڈ کی چھان بین کی ،اس دوران انکشاف ہواکہ پروجیکٹ ڈائریکٹرنے اختیارات سے تجاوزکرتے ہوئے 1200قیمتی پلاٹ چائناکٹنگ کے زریعے نیلام کرنے کی بجائے بلڈرزکو فروخت کردیئے تھے ۔

مذکورہ پلاٹوں کی مالیت ساڑھے 4ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔لائنزایریاریسیٹلمینٹ پروجیکٹ کوریڈورتھری کی تعمیرکی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔کراچی کے سگنلزفری کوریڈورکے تعمیراتی منصوبے کی زد میں آنے والے مکانات کے مکینوں کو اس منصوبے کے تحت آباد کیا جانا تھا تاہم اس اسکیم کو کمائی کا زریعہ بنالیا گیااور پلاٹ مستحقین کی بجائے بلڈرزکو فروخت لیئے جانے لگے۔

نیب ذرائع کے مطابق پیرکو ہونے والی کارروائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرزکی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی ہے۔گرفتار ہونے والے افسران میں پروجیکٹ ڈائریکٹرعطاعباس سمیت ایڈیشنل ڈائریکٹرلینڈڈاکٹرارشدنسیم، ڈپٹی ڈائریکٹرشاہد عمر،ڈپٹی ڈائریکٹرفریدنسیم اورڈائریکٹروسیم اقبال شامل ہیں ۔نیب ذرائع کے مطابق گرفتار افسران نے چائناکٹنگ کے زریعے پلاٹوں کی بلڈرزکوفروخت کرنے کااعتراف کیا ہے۔

اعتراف کے بعد رینجرز کی بھاری نفری نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عمارت کا محاصرہ کرکے ڈائریکٹرجنرل ممتازحیدرسے پوچھ گچھ کی اور عمارت کے مختلف حصوں کی تلاشی لیکرریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ رینجرزکا محاصرہ ختم ہونے کے بعدڈی جی ممتازحیدرصحافیوں سے ملاقات کیئے بغیرخفیہ راستے سے روانہ ہوگئے۔واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل منظور قادردوماہ کی رخصت پرہیں۔ان کی غیرموجودگی میں ممتازحیدر قائم ڈی جی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

15/06/2015 - 19:24:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان