سیکورٹیز کے نئے قانون میں سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفاف مارکیٹ کے قیام کو یقینی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:29:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:29:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:29:07 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:27:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:27:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:27:21 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:25:46 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:25:12 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:25:12 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:25:12 وقت اشاعت: 15/06/2015 - 18:23:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سیکورٹیز کے نئے قانون میں سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفاف مارکیٹ کے قیام کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ ایس ای سی پی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) سیکورٹیز ایکٹ 2015میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کو اور شفاف کیپیٹل مارکیٹ کے قیام کو یقینی بنا نے کے لئے موٗثر اقدامات ؛اور ضروری قانون سازی کی گئی ہے۔ نئے ایکٹ میں ان سائڈٹریڈنگ کو ایک زیر تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے جس پر مجرم کوتین سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے زیر تحت کراچی ااسٹاک ایکس چینج میں نئے منظور شدہ سیکورٹیز ایکٹ 2015پر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔

ایس ای سی پی کے نمائندوں نے نئے ایکٹ کے چیدہ چیدہ نعقات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ سیکورٹیز کا نئے قانون میں سیکورٹیز مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ یا د رہے کہ سیکورٹیز ایکٹ 2015مئی 2015سے نافذ العمل ہے ۔ نئے قانون آنے کے بعد سیکورٹیز ایکٹ 1969کالعدم قرار دیا جا چکاہے۔

سیکورٹیزکے پرانے قانون میں ایس ای سی پی کے پاس سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے اختیارات ناکافی تھے جبکہ پرانے قانون میں ایس ای سی پی کی جانب سے عائد کئے گئے جرمانے اوردیگر فیسوں کی ریکوری، اسٹاک ایکس چینجوں کی ذمہ داریوں اور اسٹاک مارکیٹ کا سسٹم آڈٹ کرنے کے لئے بھی کوئی میکنزم موجود نہیں تھا جبکہ نئے سیکورٹیز ایکٹ میں ان تمام کے لئے تفصیل سے الگ الگ اسباق بنائے گئے ہیں۔

سیکورٹیز کے نئے قانون میں اسٹاک ایکس چینج اور اسٹاک بروکروں کے فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کو الگ الگ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جبکہ سیکورٹیز ایکس چینج اورفیوچر ٹریڈنگ ایکس چینج کی فنکشن کو مکمل طور پر الگ الگ کر دیا گیا ہے۔نئے قانون میں ااسٹاک ایس چینجوں کو ایس ای سی پی کی منظوری سے اپنے رولز بنانے کی اجازت بھی دی گئی ہے جبکہ بروکر ایجنٹوں کے تصور کو سرمایہ کاروں کے نمائندوں کے تصور سے تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں سرمایہ کاروں کے نمائندوں کے حقوق و ذمہ دارویوں کو تفصیلا بیان کر دیا گیا ہے ۔

اسٹاک مارکیٹ میں فراڈ اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لئے ان سائڈ ٹریڈنگ ، فرنٹ رننگ کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے جس کے ثابت ہونے پر مجرم کو تین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی ۔ نئے قانون میں اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی ممکنا بے ضابطگیوں اور دیگراصطلاحات کی تفصیلا تشریح بھی کر دی گئی ہے۔ امید کی جاتی ہیب کہ نیاقانون پاکستان میں سرمائے کی منڈی کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا۔

15/06/2015 - 18:27:21 :وقت اشاعت